قومی اسمبلی ؛ بجٹ پر خواتین کی بحث مہنگائی کا واویلا کالا باغ ڈیم بنانے کی بازگشت

قومی اسمبلی ؛ بجٹ پر خواتین کی بحث مہنگائی کا واویلا کالا باغ ڈیم بنانے کی ...

                          اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری رہی ،اپوزیشن کی خواتین نے بجٹ پر کڑی تنقید کی جبکہ حکومتی بنچوں سے بجٹ کی تعریف کی گئی ۔جمعرات کو بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی ڈاکٹر عذرا فضل پیجوہو نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ موجودہ حکومت آئندہ تین بجٹ بھی کرے موجودہ بجٹ خالصتا ن لیگ کا ہے جس میں عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں،بجٹ میں دیئے گئے اعداد وشمار درست نہیں ہیں،آئی ایم ایف سے حکومت نے پہلے ہی سات ارب ڈالر کے قرضے لیے ہیں جو زائد شرح سود پر لیے گئے ہیں ،حکومت بجلی بجلی کا شور مچارتی ہے مگر لوڈ شیڈنگ میں کوئی کمی نہیں آئی،گیس مہنگی کی جا رہی ہے تعلیم قوموں کی ترقی کا بنیادی جزو ہے، بجٹ میں تعلیم کئے کچھ نہیںرکھا گیا۔ تحریک انصاف کی عائشہ گلہ لئی نے کہا کہ حکومت نے تمام اشیاءپر 17 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی سے بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، ود ہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں عوام پر بھتہ ٹیکس عائد ہے، یوٹیلٹی بلوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے سے مزید مہنگائی ہوگی، وزیراعظم ہاﺅس کا روزانہ کا خرچہ 21 لاکھ روپے جبکہ پنجاب میں شاہی خاندان کی حفاظت پر سالانہ 40 کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں،مسلم لیگ ن کی پروین مسعود بھٹی نے کہا کہ دنیا میں سب سے آسان کام تنقید کرنا ہے، حکومت نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے، اپوزیشن کی بجٹ پر تنقید بلا جواز ہے ۔انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں سے گزر کر بنانے سے متعلق بیان دینے والے کیسے محب وطن ہیں ،کالا باغ ڈیم سے ملک میں پانی اور بجلی کا مسئلہ حل ہو گا،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے بچوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آئندہ وزیر اعظم بنیں گے اس لیے انہیں جلدی ہے مگر وہ یاد رکھیں کہ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہے،جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ بجٹ کے اعداد وشمار درست نہیں،قومی شرح نمو کے بارے میں غلط صورتحال بتائی گئی ہے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ،غریبوں پر بجٹ میں اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی سڑکیں خراب ہیں مگر توجہ صرف پنجاب پر ہے، وزیراعظم نواز شریف ثابت کریں کہ وہ صرف پنجاب نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں، تمام صوبوں میں برابری کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں،لواری ٹنل منصوبے کو مکمل کیا جائے ،دوسرے ممالک زراعت پر سبسڈی دیتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں اس پر ٹیکس لاگو کر دیئے گئے ہیں،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ بہت کم ہے اس میں اضافہ اور مختل؛ف اداروں کے ملازمین میں تنخواہوں کی تفاوت ختم کی جائے انہوں نے کہا کہ ملک میں بدامنی اس وجہ سے ہے کہ ملک کی معیشت سود پر چل رہی ہے۔

بجٹ بحث

 

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...