مسلمان ہی مسلمان کا دشمن، تحریک اسلامی ازبکستان کا دعویٰ

مسلمان ہی مسلمان کا دشمن، تحریک اسلامی ازبکستان کا دعویٰ
مسلمان ہی مسلمان کا دشمن، تحریک اسلامی ازبکستان کا دعویٰ

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

یہ بہت ہی دکھ دینے والی اطلاع ہے کہ ازبکستان کی ایک مسلمان تنظیم تحریک اسلامی ازبکستان نے کراچی ایئر پورٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی اور ثبوت کے لئے ان شدت پسندوں کی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں، اس سے پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کی تھی، اب امریکی دانشور اور تھنک ٹینک کی طرف سے اس صورت حال کی یوں وضاحت کی ہے کہ ان تنظیموں کی انفرادی حیثیت ہوتے ہوئے بھی یہ القاعدہ سے منسلک ہیں، دوسرے معنوں میں القاعدہ کی ہٹ لسٹ میں پاکستان کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ القاعدہ تحریک اسلامی ازبکستان اور کالعدم تحریک طالبان سمیت متعدد اور تنظیمیں بھی القاعدہ سے منسلک ہیں اور القاعدہ نے پاکستان کو ہدف بنالیا ہے، پہلے بھی عرض کیا اور اس نئی خبر نے اسے ثابت کردیا کہ یہ شدت پسند اپنے لئے ایک خطہ چاہتے ہیں اس کے لئے ان کو پاکستان پر اپنے ہمدرد ترین حضرت یا جماعت کی حکومت اور اپنے لئے پہاڑوں میں ٹھکانے چاہئیں، اس سے مزید یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مجاہدین اپنی طرز کا جو اسلام لانا چاہتے ہیں وہ تبلیغ سے زیادہ بندوق سے لانے کی جدوجہد کررہے ہیں، یہ حادثات اِسی پس منظر مےں ہورہے ہیں اور اس میں ان کو پاکستانی شہریوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔

دوسری طرف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف عزم کو دہرایا گیا اور جوابی کارروائی کے فیصلے ہوئے اور عمل بھی ہوگیا۔ اب فارمیشن کمانڈروں کی سالانہ میٹنگ میں فوجی قیادت کو مکمل بریفنگ دی گئی جس کا مطالبہ یہ ہوا کہ اب ہر سطح پر تیاری رہے گی۔ یہ اطلاع اور خبر بھی ہے کہ پورے ملک اور اس کے بڑے شہروں میں ان خصوصی مراکز کا پتہ چلایا جائے جو شدت پسندوں کی پناہ گاہیں ہیں اور یہاں سے مداخلت کار بھیجے جاتے ہیں۔

یہ دراصل تنگ آمد بجنگ آمد والی بات ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے مذاکرات والی تھیوری فلاپ ہوگئی اور اب الزام تراشی شروع ہے، بہر حال اس سب کے باوجود بات چیت کی گنجائش رکھی جارہی ہے لیکن اس پختہ شرط کے ساتھ کہ پہلے ہر قسم کے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی تلاش اور ان کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لئے انٹیلی جنس کو زیادہ سے زیادہ فعال کرنے کی ضرورت کا ادراک موجود ہے اور اب بڑے شہروں اور قصبوں میں بھی تلاش کی ضرورت ہے اور یہ کام بہر حال ایجنسیوں ہی کے ذریعے ممکن ہے، بہتر یہ ہے کہ کسی اور بڑی واردات سے قبل ان کا سراغ لگاکر کارروائی کرلی جائے۔

جہاں تک قومی سیاست اور ملک کے اندرونی حالات کا تعلق ہے تو اس کے لئے ٹرین مارچ ہویا قادری جلسہ کا انقلا ب سب کچھ ترک کرکے پہلے اس مشکل سے نمٹنا چاہیے۔

مسلمان کا دشمن

مزید : تجزیہ