نجی تعلیمی اداروں کی اجارہ داری، والدین اور حکومت کی بے بسی

نجی تعلیمی اداروں کی اجارہ داری، والدین اور حکومت کی بے بسی
نجی تعلیمی اداروں کی اجارہ داری، والدین اور حکومت کی بے بسی

  

ہمارے ملک کا المیہ رہا ہے کہ جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو تمام ادارے دوڑ پڑتے ہیں، پھر ایسا لگتا ہے غیر قانونی کام اب کبھی نہیں ہوں گے اس کی مثال ہم دے سکتے ہیں۔ سلنڈر پھٹ گیا انسانی جانوں کا نقصان ہو گیا ایک ماہ تک سارے محکمے اسی کام میں لگ جاتے ہیں، پتنگ بازی میں بچے کی موت ہو گئی، سکول کے بچوں کا ٹور گیا، بچوں کی بس کو حادثہ ہو گیا، پرانے ماڈل کی بسیں بند کر دی جاتی ہیں، ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ایک ماہ دو ماہ تک حادثہ کا شکار محکمہ اور اس کے اہلکار دفعہ 144میں رہتے ہیں ہر طرف، ہنگامی حالت رہتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے یہ برائی، غلطی اب دوبارہ نہیں ہو سکے گی، اتنی دیر میں دوسرا حادثہ ہو جاتا ہے پہلے والے کیس کو چھوڑ کر سب محکمے اگلے حادثے کی روک تھام میں لگ جاتے ہیں، اسے ہمارے معاشرے کی بے حسی کہہ لیں یا محکموں کی اجارہ داری، کرپشن کو اس وقت تک تحفظ حاصل رہتا ہے جب تک وہ بڑے حادثے کا باعث بن کر محکمے کے لئے وبال جان نہ بن جائے یا دھماکے سے ہلاکتیں نہ ہو جائیں۔ آج کے کالم میں جس اہم اور سنجیدہ مسئلے کا ذکر کرنا ہے اس پر ہمارے ایجوکیشن رپورٹر، کالم نویس الیکٹرونک میڈیا گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے مئی سے چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں پھر حکومت اعلان کرتی ہے، گرمیوں کی چھٹیاں اس سال یکم جون سے ہوں گی، پھر پرائیویٹ سکولوں کی نام نہاد نمائندہ تنظیمیں جو ایک درجن سے زائد ہیں ان کی طرف سے باری باری بیانات آنا شروع ہوتے ہیں، پرائیویٹ تعلیمی ادارے10، 12 یا 15جون سے بند ہوں گے اخبارات کے ایجوکیشن رپورٹر پھر حقائق منظر عام پر لانے کے لئے والدین کی ترجمانی کرتے ہیں اور سرخیاں لگتی ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے تین ماہ کی فیس ایک ساتھ لینے کے لئے سکول10سے15جون کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے پھر محکمہ تعلیم، صوبائی وزراءاور دیگر ذمہ داران کی طرف سے تین ماہ کی فیسوں کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا جاتا ہے سکول ایک ساتھ فیسیں لینے کے مجاز نہیں ہیں پھر صوبائی وزیر تعلیم کی طرف سے ایسے اداروں کے خلاف ایکشن لینے اور سیل کرنے کی دھمکی کے بیان بھی آتے ہیں جو یکم جون کو سکول بند نہیں کریں گے، تین ماہ کی فیس لیں گے۔ والدین صوبائی وزراءاور محکمہ تعلیم کے بیانات سے بڑا حوصلہ پکڑتے ہیں اب تین ماہ کی بلاوجہ فیسیں نہیں دینا پڑیں گی پھر گرمی بڑھتی ہے۔ حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں نہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے یکم جون کو بند ہوتے ہیں نہ 5جون کو۔ اپنے شیڈول کے مطابق 10سے12جون تک تین ماہ کی اکٹھی فیسیں والدین کو بلیک میل کر کے وصول کرتے ہیں اور پھر چھٹیاں کر دی جاتی ہیں۔ اندھیر نگری یہی نہیں ہے، بلکہ اب سکولوں کی دیکھا دیکھی ویگنوں، رکشا والوں نے بھی اجارہ داری بنا لی ہے وہ بھی والدین کو بلیک میل کرنے میں نجی تعلیمی اداروں کے شانہ بشانہ ہیں تین ماہ کی اکٹھی فیس لینا فرض سمجھنے لگتے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی حالت زار کیا ہے؟ بجلی جانے کی صورت میں یو پی ایس ہے؟ نہ پینے کے لئے صاف پانی ہے، نہ سکول میں بچوں کی اخلاقی قدروں کا تحفظ ہے، نہ بچوں کی سیکیورٹی ہے؟ کون سا سلیبس پڑھایا جا رہا ہے، ٹیچر کی تعلیم کیا ہے۔ پرنسپل کی تعلیم کیا ہے، سکول کسی محکمے میں رجسٹرڈ بھی ہے، اس سکول کی سالانہ کارکردگی کیا ہے؟

میاں محمد شہباز شریف کے گزشتہ پانچ سال میں مانیٹرنگ کمیٹی اور ریگولیٹری اتھارٹی کا بڑا چرچا رہا، پھر ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لئے کمیٹی بنی، پھر کمیٹی کے بیانات سامنے آئے، اب یکساں نصاب تعلیم ہو گا، سکولوں کی فیسوں کا تعین کارکردگی سے مشروط ہو گا۔ گزشتہ پانچ سال والدین خوشیاں مناتے رہے اب ہمارے تعلیمی ادارے کس نیٹ میں آئیں گے۔ والدین کو ریلیف ملے گا، والدین مستقبل کے معماروں کے تحفظ پر خوش نظر آئیں گے، افسوس پانچ سال گزر گئے، ریگولیٹری اتھارٹی بنی نہ یکساں نصاب تعلیم نافذ ہوا، نہ کھیل کود کے میدان لازمی ہوئے نہ اساتذہ کا تعلیمی معیار مقرر ہوا نہ فیسوں کا تعین کارکردگی سے مشروط ہو سکا۔

آخر رکاوٹ کہاں ہے اس کی مَیں نے اپنے طور پر تحقیقات کی تو پتہ چلا شہباز کی پرواز نجی تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور دیگر امور پر رُک کیوں گئی ہے؟ نجی تعلیمی ادارے بھی مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں، ان کے مفادات ایک دوسرے سے اس حد تک لازم ملزوم ہو چکے ہیں، ان کو چھیڑنا، ان کے خلاف بات کرنا، ان کے خلاف ایکشن لینا، ان کو کسی نیٹ میں لانا شاید کسی ایک اتھارٹی یا صوبائی وزارت کے بس کی بات نہیں ہے۔ اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے پتہ چلا ہے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے مقاصد اور اس سے مرتب ہونے والے اثرات اور والدین کو پہنچنے والے فوائد پر تو کام شروع نہ ہو سکا، مافیا نے حکومت کی سب تدبیریں فیل کر دی ہیں۔

دلچسپ انکشاف ہوا اب بڑے تعلیمی اداروں نے اپنے پراسپکٹس اور فیس فارم میں والدین کے علم میں لانے کے لئے پکا لکھ دیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر 15سے 18فیصد یقینا فیسوں میں اضافہ ہو گا۔

اس کی تحقیقات کیں تو پتہ چلا ہے اکثر سکولوں کی عمارتیں کرائے پر ہیں، مالکان عمارتوں کا کرایہ سالانہ بنیادوں پر10فیصد بڑھاتے ہیں اسی کی آڑ میں سکولوں کے مالکان نے 15سے18 اور 20فیصد ہر سال اضافہ لازمی قرار دے دیا ہے، والدین کی اتنی توجہ اور نشاندہی کے لئے فون اور خطوط آئے۔ والدین کی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لئے فرض ادا کر دیا ہے، حق تو یہ ہے، حق ادا نہ ہوا والی بات ہے۔

مجھے تو تبدیلی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ قلم کی حرمت آزادی ¿ صحافت والدین کی مجبوریاں اپنی جگہ قائم ہیں اور قائم رہیں گی۔ تعلیمی نظام تعلیمی ادارے بدلیں گے، تو معاشرہ بدلنے کی بات ہو سکتی ہے، مجھے تو یقین ہونے لگا ہے تعلیمی اداروں کا مافیا حکمرانوں سے زیادہ طاقتور ہے یا دونوں کا گٹھ جوڑ اس طرح کا ہو چکا ہے دونوں کا مقصد عوام پر ظلم کرنا ہے، وہ مہنگائی کے ذریعے ہو، بیروزگاری کے ذریعے یا بچوں کی فیسوں کی بلیک میلنگ کے ذریعے وصولی کی صورت میں ہو، سکولوں کے بعد بات ویگنوں اور رکشوں تک جا پہنچی ہے۔ شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

مزید : کالم