پاکستان میں آج تک محض پانچ سرپلس بجٹ پیش ہوئے

پاکستان میں آج تک محض پانچ سرپلس بجٹ پیش ہوئے

تین آمروں نے جبکہ دوعوامی حکومت نے سرپلس بجٹ پیش کیے

پاکستان میں آج تک محض پانچ سرپلس بجٹ پیش ہوئے

لاہور(انویسٹی گیشن سیل )قیام پاکستان سے لے کر آج تک محض پانچ سرپلس  بجٹ پیش کیے گئے جن میں سے تین بجٹ آمریت کے دور میں آئے  جبکہ مالی خسارے کے بجٹ کی تعداد60کے قریب ہے ، بجٹ دوطرح کا ہوتاہے ، سرپلس یا خسارے کابجٹ۔روزنامہ پاکستان کی طرف سے کی گئی چھان بین کے نتیجے میں انکشاف ہواکہ تین سرپلس بجٹ آمروں کے دورحکومت میں جبکہ دو عوامی حکومت میں پیش کئے گئے۔ ملک کا پہلا سرپلس قرار دیا جانے والا بجٹ1969ءمیں جنرل یحییٰ خان کے دور میں دوسرا 1998ءمیں میاں نوازشریف کے دور میں اور تیسرا بھی میاں نواز شریف کے دور میں 1999ءمیں پیش کیا گیا جبکہ 2000ءاور 2001ءمیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ملک کے دو سرپلس بجٹ پیش کئے گئے جبکہ اب تک پیش کئے جانے والے مالی سال کے خسارے کے بجٹس کی تعداد 60بتائی جاتی ہے لیکن بعض معاشی ماہرین خسارے کے بجٹ کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ ایسے ماہرین کے مطابق خسارے کے بجٹ کے بعد حکومت کے پاس جواز ہوتا ہے کہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرے۔ ٹیکس کے حوالے سے مختلف قوانین میں تبدیلی و ترمیم لائے تاکہ حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوسکے۔ اسی طرح خسارے کا بجٹ پیش کئے جانے کے بعد حکومت ملک میں زیادہ سے زیادہ اندرونی وبیرونی سرمایہ کاری کرسکتی ہے اور سفیدہاتھی بننے والے محکموں اور استعمال سے زیادہ اراضی و اثاثوں کو بیچ سکتی ہے۔سرپلس بجٹ سے مراد ایسا بجٹ ہوتا ہے جس میں ہر طرح کی آمدن اور اخراجات کے بعد خزانے میں رقوم باقی بچتی ہیں جبکہ خسارے کے بجٹ میں عام طورپر اخراجات ، آمدن سے زیادہ ظاہر کئے جاتے ہیں۔اور مالی سال کی تکمیل تک حکومت کو تجویز کردہ تمام اخراجات پورے کرنے اور ترقیاتی کاموں کے لیے قرضے لینا پڑتے ہیں۔

مزید : بجٹ /Headlines

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...