محکمہ جنگلات کے ملازم کی 20 سال بعد سنی گئی

محکمہ جنگلات کے ملازم کی 20 سال بعد سنی گئی
محکمہ جنگلات کے ملازم کی 20 سال بعد سنی گئی

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے 85 سالہ شخص کو پنشن کی ادائیگی نہ کرنے پر توہین عدالت کے کیس میں قرار دیا ہے کہ چاہے جہاز پر جانا پڑے جائیں اور ہسپتال میں زیر علاج امان اللہ کو پنشن کا چیک دیں۔نجی ٹی وی کے مطابق محکمہ جنگلات کا ملازم امان اللہ گزشتہ 20 سال سے پنشن کی ادائیگی کے لئے دفاتر اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہا تھا، سپریم کورٹ نے امان اللہ کو فوری پنشن کی ادائیگی کا حکم دیا مگر محکمہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا جس بیمار امان اللہ کو مجبوراً توہین عدالت کی درخواست دائر کرنا پڑی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے کی۔ سیکرٹری جنگلات نے عدالت کو بتایا کہ امان اللہ کی پنشن کے کاغذات تیار ہیں انہیں جلد ادائیگی کر دی جائے گی جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ چاہے جہاز یا ہیلی کاپٹر پر جانا پڑے، ہسپتال میں زیر علاج امان اللہ کو آج ہی پنشن کا چیک دیں، عدالت عظمی نہیں چاہتی کہ امان اللہ اے جی آفس کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرے۔ سپریم کورٹ شہریوں کو انصاف کی فراہمی کے لئے بیٹھی ہے کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔ سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات کی جانب سے چیک کی ادائیگی کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...