بھارت میں جنسی درندگی کی انتہاءہوگئی، درخت سے لٹکی ایک اورخاتون کی لاش برآمد

بھارت میں جنسی درندگی کی انتہاءہوگئی، درخت سے لٹکی ایک اورخاتون کی لاش برآمد
بھارت میں جنسی درندگی کی انتہاءہوگئی، درخت سے لٹکی ایک اورخاتون کی لاش برآمد

  

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) عورتوں کا گینگ ریپ عالمی سطح پر بھارت کا تعارف بن گیا ہے اور المناک بات یہ ہے کہ اس میں کوئی کمی آنے کی بجائے ہر نیا دن اس ملک کو اس شرمناک اعزاز کے حوالے سے نئی بلندیوں پر لے جارہا ہے۔ جہاں بھارت کو گینگ ریپ کا عالمی دارالحکومت قرار دیا جارہا ہے تو وہیں بھارتی ریاست اترپردیش کو گینگ ریپ کے بعد عورتوں کو درختوں سے لٹکا کر پھانسی دینے کے حوالے سے عالمی دارالحکومت قرار دیا جارہا ہے۔ ایک تازہ ترین واقعے میں ایک 19 سالہ لڑکی کو اترپردیش میں اجتماعی زیادتی کے بعد درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دی گئی ہے۔ محض پچھلے چند دنوں میں عورتوں کو اس طرح اجتماعی زیادتی کے بعد پھانسی دینے کے چار واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اس 19 سالہ لڑکی کے متعلق یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اسے مبینہ طور پر چارپولیس والوں نے تھانہ کے اندر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مقتولہ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اسے راجپورہ گاﺅں سے اس کے گھر سے اٹھایا گیا اور جب اس کی تلاش کی گئی تو مرادآباد ضلع میں ایک گاﺅں کے باہر اس کی لاش ایک درخت سے لٹکی پائی گئی۔ اس واقعہ سے ایک دن پہلے بھی ایک عورت سے تھانے میں اجتماعی زیادتی کا واقعہ ہوچکا ہے جبکہ اس سے پہلے ایک 44 سالہ عورت کو اجتماعی زیادتی کے بعد درخت سے لٹکادیا گیا تھا اور ان واقعات سے پہلے اترپردیش میں ہی دو بہنوں کو اجتماعی زیادتی کے بعد درخت سے لٹکانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی