وزیر اعظم اور وزیر داخلہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے،چوہدری نثارکی مستعفی ہونے کی دھمکی

وزیر اعظم اور وزیر داخلہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے،چوہدری نثارکی مستعفی ...
وزیر اعظم اور وزیر داخلہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے،چوہدری نثارکی مستعفی ہونے کی دھمکی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے درمیان اہم سیاسی اور قومی امور پر اختلافات کشیدہ ہوگئے ہیں جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماﺅں نے وزیراعظم کو چوہدری نثار اور خواجہ آصف کے وزارتوں کے قلمدان تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیا ہے جبکہ چوہدری نثار نے وزارت داخلہ کا قلمدان واپس لینے یا تبدیل کرنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی ہے، بجٹ کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کا بھی امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیر داخلہ اور وزیراعظم کی نشست ساتھ ہونے کے باوجود کوئی بات تک نہ ہوئی بلکہ سلام لینے میں بھی پہل وزیراعظم نواز شریف نے کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق چوہدری نثار کے وزیراعظم سے اختلافات مشرف کو باہر جانیکی اجازت دینے کے معاملہ پر شروع ہوئے۔ وزیر داخلہ مشرف پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ان کو باہر جانے دینے کے حامی تھے اور ان کی اہم حلقوں کو یقین دہانی کے باوجود وزیراعظم نے ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرف کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔اس بارے میں وزیر دفاع خواجہ آصف، احسن اقبال اور سعد رفیق کا سخت موقف بھی سامنے آیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بعد میں وفاقی وزیر داخلہ کی بجٹ سے متعلق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار تو خاموش ہوگئے مگر وزیر داخلہ کے ساتھ ایک وزیر کی جھڑپ ہوگئی جس پر وزیراعظم نے چوہدری نثار کے رویہ پر اظہار ناپسندیدگی کیا جس کے بعد چوہدری نثار نہ تو بجٹ اجلاس سے پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے اور نہ ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر کے دوران ایوان میں آئے۔ کراچی ایئرپورٹ پر دہشتگردوں کے حملہ کی رات وزیرداخلہ کے منظر عام سے غائب رہنے اور اس پر وفاقی حکومت پر ہونیوالی تنقید پر بھی وزیراعظم سخت ناخوش ہیں، ان کی ہدایت پر وزیرداخلہ کراچی گئے لیکن صوبائی حکام سے ملاقات کیے بغیر واپس آگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے خلاف آپریشن کے معاملہ پر بھی وزیرداخلہ کابینہ اراکین سے واضح اختلاف رکھتے ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنماﺅں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے قلمدان تبدیل کردئیے جائیں یا وزیرداخلہ چوہدری نثار کو وزیر دفاع کا قلمدان سونپ کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپ دیا جائے۔ پرنٹ میڈیا کے ذرائع نے بتایا کہ چوہدری نثار نے پارٹی رہنماﺅں کی اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ان کا قلمدان تبدیل کیا گیا تو وہ استعفی دینے کو ترجیح دیں گے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں