غداری کیس: اراکین پارلیمنٹ ودیگر کا ریکارڈ منظرعام لانے کی مشرف کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج

غداری کیس: اراکین پارلیمنٹ ودیگر کا ریکارڈ منظرعام لانے کی مشرف کی درخواست ...
غداری کیس: اراکین پارلیمنٹ ودیگر کا ریکارڈ منظرعام لانے کی مشرف کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اضافی دستاویزات کی فراہمی اور شریک ملزمان کو ریکارڈ پرلانے سے متعلق دائر درخواست قبل ازوقت قرار دیتے ہوئے تکنیکی بنیاد پر مسترد کردی، عدالت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال شہادتیں ریکارڈ کرنے کا مرحلہ نہیں آیا، ملزم کو شواہد فراہم کرنے اور دستاویزات کیلئے شہادتوں کے مرحلے پر پورا موقع دیا جائے گا، شہادتیں17 جون سے قلمبند کی جائیں گی۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں غداری کی سماعت کرنے والی تین رکنی خصوصی عدالت نے گزشتہ سماعت پر پرویز مشرف کی جانب سے اضافی دستاویزات فراہم کرنے اور 3 نومبر کی ایمرجنسی میں معاونت کرنے والے افراد کو ریکارڈ پر لانے کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو جمعہ کو خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے پرویز مشرف کی درخواست تکنیکی بنیاد پر مسترد کرتے ہوئے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ ابھی شہادتوں کا مرحلہ شروع نہیں ہوا، ملزم اپنے دفاع کیلئے متعلقہ دستاویزات حاصل کرسکتا ہے اور کوئی شریک ملزم ہو تو اسے بھی شہادتوں کے مرحلے پر طلب کیا جاسکتا ہے اس وقت درخواست دائر کرنا قبل ازوقت ہے اسے خارج کیا جاتا ہے ۔ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ پرویز مشرف کی طرف سے مانگی گئی دستاویزات کیس سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں، شہادتوں کے مرحلے پر ملزم کو پورا موقع دیا جائے گا۔ غداری کیس میں شہادتیں17 جون سے ریکارڈ کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ پرویز مشرف کے وکلاءنے خصوصی عدالت سے درخواست کی تھی کہ3 نومبر کے ایمرجنسی کے اقدامات کے ذمے دار صرف سابق صدر نہیں اس وقت کی کابینہ اور عسکری عہدیداروں سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔ ارکان پارلیمنٹ نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی تھی اور اس حوالے سے باقاعدہ قرارداد منظور کی گئی تھی۔ عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ان تمام افراد کو بطور شریک ملزم ر یکارڈ پر لایا جائے اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تمام اضافی دستاویزات فراہم کی جائیں۔ سابق صدر کے وکلاءنے یہ بھی موقف اختیار کیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم ، گورنر اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی ایمرجنسی کی مشاورت میں شامل تھے۔ سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل فیصل چوہدری نے کہاکہ عدالتی حکم پر پرویز مشرف اورسینئر وکلاءسے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے درخواست کی میرٹس پر بات نہیں کی، ہماری درخواست کو تکنیکی بنیاد پر قبل ازوقت قرار دے کر خارج کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ ابھی شہادتوں کا مرحلہ شروع نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالتی حکم کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور شہادتوں کے مرحلے پر دوبارہ یہی درخواست دائر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی اس وقت کی کابینہ نے بھی منظوری دی تھی، ہماری درخواست خارج ہونے سے شریک ملزم بچ نہیں سکیں گے فی الحال گواہان کو نوٹس جاری نہیں کیے گئے یہ عمل 17 جون سے شروع ہوگا حکومت کے پاس8سے 9 گواہ موجود ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب قانون اجازت دے گا تو پرویز مشرف بیرون ملک جائیں گے۔ اس موقع پر ایسے سوالات مناسب نہیں۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں