پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے ، 36فیصد بجٹ جنوبی پنجاب میں خرچ کرنے کااعلان

پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے ، ...
پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے ، 36فیصد بجٹ جنوبی پنجاب میں خرچ کرنے کااعلان

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کا مالی سال 2014-15ءکا1045 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس میں 36فیصد جنوبی پنجاب پر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیرخزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 273ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں 10فیصداضافہ کیا جا رہا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ پنجاب کے بجٹ کا کل حجم 1045 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 699 ارب 91 کروڑ اور ترقیاتی بجٹ 345 ارب روپے ہے، جاری اخراجات کا حجم 700 ارب روپے ہو گا جبکہ بجٹ کے مجموعی حجم میں 16.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2014-15 کے بجٹ میں صوبائی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 164 ارب 70 کروڑ روپے اور صوبائی نان ٹیکس وصولیوں سے 49 ارب 20 کروڑ روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا 36 فیصد جنوبی پنجاب کیلئے مختص کرنے کا اعلان کیا، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کو جس طرح نظرانداز کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، جنوبی پنجاب کی آبادی صوبے کی آبادی کا 31 فیصد ہے، جنوبی پنجاب کو آبادی کے تناسب سے 32 فیصد زائد فنڈز مہیا کریں گے اور 263 ارب روپے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے، جنوبی پنجاب کیلئے ہمارے ترقیاتی منصوبے ماضی کی حکومتوں سے زیادہ ہیں، خانیوال تا لودھراں دو رویہ سڑک تعمیر کی جائے گی، ملتان میں طویل ترین میٹرو بس شروع ہو گی۔

پنجاب حکومت کے بجٹ میں تعلیم کیلئے 274 ارب روپے، صحت کے شعبہ کیلئے 121 ارب 80 کروڑ روپے، زراعت کے شعبہ کیلئے 14اوب 97 کروڑ روپے، لائیو سٹاک کیلئے 8 ارب 93 کروڑ، سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پولیس کیلئے 82 ارب روپے، لائیو سٹاک میں خواتین کیلئے 2 ارب 16کروڑ روپے، ہیلتھ انشورنس کارڈ کیلئے 4 ارب روپے، تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 48 ارب 31 کروڑ روپے ، مواصلات و تعمیرات کیلئے 39 ارب 56 کروڑ روپے، اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے 25 کروڑ ، پینے کے صاف پانی کے منصوبوں پر 17 ارب 11 کروڑ روپے ، دانش سکولوں کیلئے دو ارب روپے، ضلعی حکومت، تحصیل کونسلوں کیلئے 260 ارب 48 کروڑ روپے، زچہ و بچہ کی صحت کیلئے ایک ارب روپے، جنگلات و ماہی پروری کیلئے 2 ارب 56 کروڑ روپے، نوجوانوں کو خود روزگار قرض سکیم کیلئے 2 ارب روپے، آبپاشی کیلئے 50 ارب 80 کروڑ روپے، لیپ ٹاپ سکیم کیلئے 5ارب روپے، پنجاب میں گرین فنڈ کیلئے 50 کروڑ روپے، زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے 4ارب 14 کروڑ روپے، صوبائی ملازمین کی پنشن کیلئے 104 ارب روپے، اقلیتی برادری کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 50 کروڑ روپے، حکومتی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 37 ارب روپے، ذہین طلباءو طالبان کیلئے انڈوومنٹ فنڈ کیلئے 11 ارب روپے، تعلیم سے متعلق منصوبوں کیلئے 48 ارب روپے، ایک لاکھ ہونہار طلباءکو لیپ ٹاپ دینے کیلئے تین ارب 50 کروڑ روپے اور موبائل ہیلتھ یونٹ کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پولیس کا بجٹ 70 سے بڑھا کر 82.5 ارب روپے، انسداد دہشت گرد کیلئے 1500 افراد پر مشتمل فورس تشکیل دینے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداءکے ورثاءکیلئے خصوصی پیکیج اور جیل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا قیام عمل میں لانے کا اعلان بھی کیا۔ پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے 2 کنال سے بڑے گھروں پر ٹیکس لگانے کافیصلہ کیا ہے اور 2 سے 8 کنال کے گھروں پر ڈھائی لاکھ روپے فی کنال ٹیکس، 8 کنال سے زائد رقبے کے گھر پر 2 سے 3 لاکھ روپے فی کنال ٹیکس کا نفاذ، شہری املاک پر پراپرٹی ٹیکس کی شرح 5 فیصد کر دی گئی اور تمام ہوٹلوں پر 16 فیصد صوبائی سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویزبھی پیش کی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں لگژری اور بڑی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، 1300 سی سی گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس 1800 سے بڑھا کر 2200 روپے ، 1300 سے 1500 سی سی گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس 6 ہزار روپے، 1500سے 2 ہزار سی سی گاڑیوں کا ٹیکس 4500 سے بڑھا کر 9 ہزار روپے، 2 ہزار سے 2500 سی سی تک گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس 12 ہزار روپے، 2500 سی سی سے زائد گاڑیوں کا ٹیکس 15 ہزار روپے، 1590 سے 1990 پر ٹیکس 20 ہزار روپے، 1990 سے 2990 ٹیکس 25 ہزار روپے، 2990 سی سی سے اوپر تمام لگژری گاڑیوں پر ٹیکس 35 ہزار روپے ہو گا کر دیا گیا ہے جبکہ 1000سی سی گاڑیوں تک ٹیکس کی سابق شرح برقراررکھی گئی ہے۔

بجٹ تقریر میں لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران سے متعلق صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ بحران کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، بجٹ میں توانائی منصوبوں کیلئے 31ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، ماضی کے حکمرانوں نے بجلی معاملے پر غفلت برتی لیکن موجودہ حکومت نے ایک سال میں بجلی کے 19 منصوبوں پر کام شروع کیا، نندی پور پراجیکٹ کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور اسے ریکارڈ مدت میں مکمل کیا، بہاولپور میں ایشیاءکا سب سے بڑا سولر منصوبہ لگایا جائے گا، بجلی کے مختلف منصوبوں کی تکمیل سے 1500 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی، انہوں نے سلیمانی بیراج اور پاکپتن کینال کی بحالی و تعمیر نو کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں ویٹرنی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور ہسپتالوں کو جدید بنایا جائے گا، مظفر گڑھ میں ترکی کے تعاون سے جدید ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے اور اب کراچی اور لاہور سے لوگ مظفر آباد علاج کیلئے آئیں گے، رحیم یار خان میں یونیورسٹی اور شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کی تکمیل کا منصوبہ شروع ہو گا، بورے والا میں زرعی یونیورسٹی قائم کی جائے گی،رحیم یار خان، اوکاڑہ اور ساہیوال میں تین نئی یونیورسٹیاں بنائی جائیں گی،پنجاب کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اورخوشحال صوبہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح پانچ فیصد ہے جسے آٹھ فیصد تک بڑھایا جائے گا، آئندہ چار برسوں کے دوران 40 لاکھ نئے روزگار پیدا ہوں گے، 2 سال میں 20 لاکھ افراد کو فنی تربیت فراہم کریں گے جس کیلئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کو اقتصادی ترقی کے طور پر استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پسماندہ طبقے کو اولین ترجیح میں رکھا، دانش سکول کا منصوبہ غریب عوام کیلئے تحفہ ہے اور اس منصوبے کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، کاشتکاروں کو کھاد کیلئے 5 ارب روپے کی سبسڈی دینے، اقلیتی برادری کے بچوں کو خصوصی وظائف دینے کا اعلان بھی کیا۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت آئندہ چار سال میں 72 ہزار افراد کو خط غربت سے نکال دے گی، آئندہ مالی سال میں 50 ہزار ییلو کیب فراہم کی جائیں گی، کم آمدن والے افراد کیلئے 4 نئی آشیانہ سکیمیں بنانے اور مزدوروں کیلئے 20,000 گھر بنائیے جائیں گے، خواتین کی بہبود کیلئے ایک ارب 86 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، ریسکیو کا دائرہ کار مزید 12 تحصیلوں تک بڑھایا جائے گا، 3,000 نرسوں کو بھرتی کیا جائے گا، اسلحہ لائسنس کیلئے مربوط نظام متعارف کرانے کافیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

مزید : بجٹ /Headlines