برما میں مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ، بدھ مت کی شناخت کیلئے قانون سازی

برما میں مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ، بدھ مت کی شناخت کیلئے قانون سازی
برما میں مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ، بدھ مت کی شناخت کیلئے قانون سازی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ینگون (مانیٹرنگ ڈیسک) میانمار کی حکومت ملکی دستور میں ایک ترمیم کرنے کی کوشش میں ہے اور اس کے مطابق ملک کی بدھ مت کی شناخت کو سنبھالنا اور محفوظ کرنا اہم قرار دیا جائے گا۔ اس دستوری ترمیم کے تحت بدھ مت کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو اپنانا اور مختلف عقائد یا ادیان کے حامل افراد کے درمیان شادیوں کی بھی ممانعت ہوگی۔ حکومت کے مطابق اس دستوری ترمیم سے میانمار کی بدھ شناخت کو برقرار اور قائم رکھا جاسکے گا۔ امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعق قومی ادارے نے میانمار میں متعارف کروائی جانے والی دستوری ترمیم پر تنقید کی ہے۔ امریکی ادارے کے مطابق مختلف مذاہب کے درمیان ہونے والی شادیوں پر پابندی کی اکیسویں صدی میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعدامکاناً مسلم اور دوسری مذہبی اقلیتوں بشمول مسیحیوں کو مزید تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ امریکی ادارے نے قانون کے ممکنہ نفاذ کو ایک منفی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واشنگٹن کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔ مینار حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی دستوری ترمیم کے مجوزہ متن میں مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ ایسا کرنے سے قبل حکومتی اہلکاروں کے ایک خصوصی پینل سے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی۔ اسی مناسبت سے تین دوسری ترامیم بھی زیر غور ہیں لیکن ان کے متن کو تاحال عام نہین کیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے بھی میانمار میں ہونے والی اس دستوری پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ تشدد بڑھے گا۔ یاد رہے کہ میانمار حکومت نے اب تک روہنگیا مسلم اقلیت کو اپنا حصہ تسلیم نہیں کیا اور انہیں کوئی شناخت بھی نہیں دی اور وہ دربدر بھٹک رہے ہیں اور پناہ کی تلاش میں سمندروں میں ڈوب رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی