امریکہ نے اپنی عوام کے اربوں افغانستان میں ضائع کیے

امریکہ نے اپنی عوام کے اربوں افغانستان میں ضائع کیے
امریکہ نے اپنی عوام کے اربوں افغانستان میں ضائع کیے

نیویارک (نیوز ڈیسک) دنیا کے مختلف ممالک میں جنگی جارحیت کرکے امریکہ ان ممالک کا امن تو برباد کرہی رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنے عوام کی خون پسینے کی کمائی کو بھی جنگی جنون کی آگ میں جھونک رہا ہے۔ امریکہ کی جنگی مقاصد کیلئے شاہ خرچیوں کی ایک اور مثال سامنے آگئی ہے، حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی دفاعی ادارے نے افغانستان میں استعمال کیلئے ایسی خصوصی کشتیوں کا آرڈر دیا کہ جن میں ہوا بھر کر پھلایا جاسکتا ہے اور بوقت ضرورت ہوا نکال کر بآسای کہیں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ امریکی حکومت نے 2010ءمیں یہ کشتیاں 30 لاکھ ڈالر میں خریدیں لیکن اس کے بعد انہیں ریاست ورجینیا کے ایک بحری اڈے کے گودام میں رکھ دیا گیا اور چار سال گزرنے کے بعدبھی یہ وہیں کی وہیں پڑی ہیں جبکہ ان کو افغانستان اور ازبکستان کے درمیان واقع ایک دریا کی نگرانی کیلئے خریدا گیا تھا۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اس قسم کی کشتی مارکیٹ میں قریباً 50 ہزار ڈالر میں دستیاب ہے جبکہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ امریکی حکومت کی خریدی گئی کشتیوں کی قیمت 30 لاکھ ڈالر ہے جوکہ پونے چار کروڑ ڈالر فی کشتی بنتی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان کشتیوں کی مہنگی خریداری کے نوماہ بعد فوجی رہنماﺅں نے یہ کہہ دیا کہ یہ کشتیاں ان کے کسی کام کی نہیں ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشتیاں ان لاتعداد ہتھیاروں میں سے ایک ہیں کہ جن پر امریکی حکومت عوام کے کھربوں ڈالر اپنے جنگی جنون کی وجہ سے لٹا چکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...