گروپ میں لوگوں کی اخلاقیات بدل جاتی ہیں ، نئی سائنسی تحقیق

گروپ میں لوگوں کی اخلاقیات بدل جاتی ہیں ، نئی سائنسی تحقیق
 گروپ میں لوگوں کی اخلاقیات بدل جاتی ہیں ، نئی سائنسی تحقیق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(نیوزڈیسک)ہمارے ملک میں یہ مسئلہ عام پایا جاتا ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر عوام کے مشتعل ہجوم سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور شدید توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ اور ہنگامی آرائی کرتے ہیں۔ اس قسم کے رویے کو سمجھنے کیلئے سائنسدانوں نے ایک تحقیق کی ہے اور اس کے دلچسپ نتائج سامنے آگئے ہیں۔نیورو امیج نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ لوگ جب ایک گروپ کی شکل میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کی اخلاقی اقدار بدل جاتی ہیں ور وہ تشدد اور ہنگاموں کی طرف زیادہ مائل ہوجاتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات گروہی بحث میں دوستوں کے درمیان بھی اختلافات ہو جاتے ہیں اوروہ ایک دوسرے کے دشمن بھی بن جاتے ہیں۔ ایک اور مثال میں سائنسدانوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اکیلئے شخص کو یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ جرم کرتے ہوئے پکڑا جائے گا اور اس کے جرم کا ذمہ دار صرف اسے ہی ٹھہرایا جائے گا جبکہ ہجوم کی صورت میں ہر شخص یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ پکڑا نہیں جائے گا کیونکہ اتنے لوگوں میں اس کی پہچان مشکل ہے۔ ہجوم میں شامل لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ جو جرم کررہے ہیں اس کی ذمہ داری سارے گروہ کی ہے نہ کہ صرف ایک شخص کی اور یہ بات انہیں اپنی اخلاقی اقدار چھوڑ کر تشدد آمیز کارروائیاں کرنے پر مائل کرتی ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق میں شامل افراد کے دماغوں کے عکس لے کر یہ معلوم کیا کہ اکیلے یا گروپ میں ہونے کی صورت میں ان کی اخلاقی اقدار بدل جاتی ہیں۔

مزید : جرم و انصاف