سپین ترقی کے لئے 'کالے دھندوں ' کو معیشیت کا حصہ بنائے گا

سپین ترقی کے لئے 'کالے دھندوں ' کو معیشیت کا حصہ بنائے گا
  • سپین ترقی کے لئے 'کالے دھندوں ' کو معیشیت کا حصہ بنائے گا
  • سپین ترقی کے لئے 'کالے دھندوں ' کو معیشیت کا حصہ بنائے گا
بارسلونا (نیوز ڈیسک) یورپی ممالک نے نشہ آور ادویات اور جنس فروشی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی اپنی مجموعی قومی پیداوار میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس سے توقع کی جارہی ہے کہ ان ممالک کی مجموعی قومی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائے گا۔ سپین میں اس فیصلے کو نافذ العمل کرنے کیلئے اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں اور اس ملک کے حکومتی اہلکاروں کا خیال ہے کہ نشہ کی سمگلنگ اور طوائفوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو شامل کرکے سپین کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً تین فیصد کا اضافہ ہوجائے گا۔ دیگر ممالک میں بھی اس طرح کے اقدامات کی توقع کی جارہی ہے اور ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو 2016ءتک سب یورپی ممالک میں مجموعی قومی پیداوار کا حصہ بنادیا جائے گا۔ یورپی یونین کے شماریاتی ادارے یوروسٹیٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سب سے زیادہ اجافہ فن لینڈ اور سویڈن کی مجموعی قومی پیداوار میں ہوگا جو کہ چار سے پانچ فیصد ہوگا جبکہ دوسرے نمبر پر آسٹریا، برطانیہ اور نیدر لینڈ ہوں گے جن کا اضافہ تقریباً تین سے چار فیصد ہوگا۔ 2011ءکے ایک اندازے کے مطابق سپین میں تین لاکھ قوانین جنس فروشی کا کام کررہی تھیں۔

مزید : ادب وثقافت