حکومت پنجاب کا رمضان پیکیج

حکومت پنجاب کا رمضان پیکیج
حکومت پنجاب کا رمضان پیکیج

  



رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں والا مہینہ ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر سے مسلمان ماہ صیام میں روزے رکھ رہے ہیں۔اسلامی دنیا میں رمضان المبارک کو ایک تہوار کے طور پر انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے سے منایاجاتا ہے۔رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں وطن عزیز کے کونے کونے میں ایک دل فریب اور خوبصورت فضا پیدا ہوتی ہے جس میں مسلمان سحری سے افطار اور پھر افطار سے سحری تک اللہ تعالی سے برکتوں اور رحمتوں کے سوالی نظر آتے ہیں۔پوری قوم متحد ہو کر ملک کی سلامتی، ترقی اور حوشحالی کی دعا کرتی ہے۔رمضان المبارک کے اس مقدس ماہ میں جہاں برکتوں ،رحمتوں اورنعمتوں کا نزول ہوتا ہیں اور ہر کوئی اللہ تعالیٰ سے بخشش کا طلب گار ہوتا ہیں وہاں بد قسمتی سے چند عناصر منافع خوری اور ذخیرہ اندوذی کی لعنت میں مبتلا ہو کر روزے داروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے عناصر سے نمٹنے کے لیے حکومت پنجاب اور وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف ہر سال کی طرح اس سال بھی خصوصی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی حکومتی سطح پر رمضان بازاروں کے قیام،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرنے ،مدنی دسترخوانوں اور ماڈل بازاروں کے قیام کو عمل میں لایا گیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب ہر سال خصوصی طور پر رمضان پیکج کا اعلان کرتے ہیں جس میں عوام تک معیاری اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی ، قیمتوں کی سختی سے نگرانی ، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوذوں کے خلاف کاروائی کرنے کے علاوہ رمضان بازاروں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔گذشتہ روایات کے عین مطابق وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے اس سال بھی تاریخی رمضان پیکج متعارف کروایا ہے۔ جس کے تحت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے اور سستے آٹے کی فراہمی کیلئے 5 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی 2000سے زائد مدنی دسترخوان،تحصیل اور یونین کی سطح پر 318 رمضان بازاروں کے قیام کے علاوہ 25ماڈل بازار بھی قائم کیے گئے ہیں۔رمضان پیکج کے تحت رمضان بازاروں میں10 کلو گرام آٹے کا تھیلہ290روپے میں جبکہ اوپن مارکیٹ میں 310 میں دستیاب ہوگا۔ اس طرح پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اس مقدس ماہ میں مارکیٹ ریٹ سے 6روپے فی کلو گرام کم قیمت پر رمضان بازاروں میں 1500ٹن چینی فراہم کرے گی۔ پاکستان بناسپتی ایسوسی ایشن گھی اور آ ئل مارکیٹ سے 10روپے فی کلو/لیٹرکم قیمت پر رمضان بازاروں میں فراہم کرے گا۔برائلر کی قیمت10 روپے فی کلو کم جبکہ انڈے5روپے فی درجن کم قیمت پر دستیاب ہوں گے۔رمضان بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں کسی بھی شکایت اور خلاف ورزی کے اندراج کے لیے ٹال فری نمبر 0800-02345 بھی قائم کیا گیا ہیں۔پنجاب بھر میں گذشتہ ہفتے سے رمضان بازار قائم کر دیئے گئے ہیں۔رمضان بازاروں میں ڈیجیٹل پرائس کنٹرول بورڈ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔رمضان بازاروں میں پارکنگ کے مناسب انتظام اوربیت الخلاء کے قیام کے علاوہ پنکھے اور جنریٹر بھی نصب کیے گئے ہیں۔

ان بازاروں میں پیمائش اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کنٹرول روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔رمضان بازار صبح 9بجے سے شام 6بجے تک کھلے رہیں گے۔وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف گذشتہ چند دنوں سے لندن میں مقیم ہیں اور انہیں ادھر بھی عوام کے لئے سبزیاں، بیسن ،دالوں ،کھجوروں،آٹے کی بوری اور دیگر اشیاےٗ خوردونوش کی سستی قیمتوں پر فراہمی کی فکر لاحق ہے۔ وزیر اعلی پنجاب رمضان بازاروں کی مانیٹرنگ اور عوام تک سستے داموں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لندن میں قیام پذیر ہونے کے باوجود روزانہ کی بنیادوں پر ویڈیو لنک سے رمضان بازاروں کے حوالے سے خصوصی اجلاس بلاتے ہیں۔صوبائی وزراء،سیکریٹریز،پارلیمانی سیکریٹریز اورسینئر افسران کو روزانہ رمضان بازاروں کا دورہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ تمام اضلاع میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ،ڈی سی اوز اور کمشنرز حضرات کو مانیٹرنگ کے عمل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہیں۔وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف رمضان المبارک میں معمول سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔عوام الناس کو اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی،ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی اور اشیاء کے معیار اور پیمائش کو بہتر بنانے کے لیے ہر مرحلہ پر کام کیا جا رہا ہے۔ماہ رمضان میں عوام کو سستے داموں معیاری اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے جو ماڈل پنجاب میں اپنایا گیا ہے ،قابل تقلید ہے۔دوسرے صوبوں کو بھی اسی ماڈل کو اپنانے کی ضرورت ہے تا کہ ملک بھر سے لوگوں کو ذیادہ سے ذیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔شہباز شریف بحیثیت وزیر اعلیٰ اسے نہ صرف اپنی حکومت کی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اخلاقی اور دینی فریضہ سمجھ کر خدمات سر انجام دیتے ہیں۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پر ذخیرہ اندوذی اور منافع خوری کے کلچر کا خاتمہ کریں اور برکتوں اور رحمتوں کے ماہ میں دیگر مسلم ممالک کی طرح وطن عزیز میں بھی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں واضح کمی اور بہتر معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

مزید : کالم