مغربی ممالک مسلمانوں کے خلاف

مغربی ممالک مسلمانوں کے خلاف
 مغربی ممالک مسلمانوں کے خلاف

  

علامہ اقبالؒ کو اللہ تعالیٰ نے جو قرآنی بصیرت عطا کی تھی اس کی روشنی میں انہوں نے اپنے دور کے مسائل کا تجزیہ کرکے اعلان کیا تھا کہ دنیاکا تمام شراور فساد یورپ کی وجہ سے ہے۔ یہ حقیقت آج بھی دیکھی جا رہی ہے، مگر فرق اتنا ہے کہ آج عالمی شر اور فساد کی قیادت امریکہ کے پاس ہے۔ سیدھا سا سوال ہے کہ مغربی ممالک کی فوجیں مسلمان ملکوں میں کیوں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں؟ مسلمان ملکوں کو ایسی چراگاہ بنا لیا گیا ہے، جس کی کوئی حفاظتی دیوار نہیں، جس کا جی چاہتا ہے۔ منہ اٹھا کر جس ملک میں چاہے داخل ہو جاتا ہے ۔ صدیوں سے پرامن معاشروں کو فساد اور انتشار میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ امریکی تسلط نے مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو اپنے اصلی مقاصد اور ملت سے دور کرکے گویا اپنے ذاتی ملازمین کی سطح تک گرا دیا ہے۔یہ سب مسلمان حکمرانوں کی نالائقی ،نااہلی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے ہے۔ان حکمرانوں نے اپنے مفادات کے حصول کو مغربی طاقتوں سے وابستہ کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مغربی ممالک مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو اپنے تابع کرکے دوسرے مسلمان ملکوں کے خلاف اکساتے ہیں کہ اے شاہانِ عرب! یہ ایران۔ شام۔ عراق والے تمہاری عزت و شان کو مانتے نہیں اور ادھر ایران کی قیادت کو آخر کار اس لائن پر لے آیا گیا کہ تم ہی تو انقلابی لیڈر اور محافظ ہو۔ تمہارا اسلحہ اگر تمہارے چاہنے والوں کے حق میں استعمال نہ ہوا تو پھر اس کا کیا فائدہ ؟ حیرت ہے کہ انقلاب ایران کے عظیم قائد آئت اللہ خمینی نے بار بار اعلان کیاکہ جو شخص شیعہ سنی کی بات کرتا ہے۔ وہ امریکہ کا ایجنٹ ہے۔ آج بھی امام خمینی کے ساتھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں، مگر امریکی اغراض و مقاصد کی تکمیل میں شیعہ سنی مسئلہ کو اُلجھا دیا۔ ادھر عرب زعما بھی ناجانے کن مقاصد کی تکمیل کے لئے مغربی شیطانوں کے بہرے اندھے پیروکار بنے ہوئے ہیں، جبکہ حالیہ نصف صدی سے زائد عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان ممالک میں شر کی اصل بنیاد سیکیورٹی کونسل کے ویٹو کے حامل مغربی ممالک ہیں جو آج اپنے ملکوں کو آرام اور سکون میں رکھتے ہوئے کتنے ہی مسلمان ملکوں میں اپنے ناپاک قدم جمائے ہوئے ہیں۔ کویت، ایران، عراق، جنگ اور افغانستان میں امریکی ہدایات پر لائے گئے لشکروں نے دنیا کے امن کو تباہ کیا۔ آج معربی ملک اپنی فوجیں واپس کیوں نہیں لے کرجاتے، مگر اصل بات یہ ہے کہ مغربی سامراج کا مسلم دنیا پر ایک خطرناک منظم حملہ ہے۔ پہلے مذہبی اور فرقہ واریت پھیلا کر خانہ جنگی کرانا مقصود ہے۔ پھر آہستہ آہستہ قبضہ جما کر اپنے کارندے بٹھا کر تعلیم، سیاست،میڈیا دفاع وغیرہ ہر شعبے پر اپنا سامراجی قبضہ مطلوب ہے۔

اسلامی ممالک پر تعلیمی اور تہذیبی یلغار ایک منظم اور طویل اسلام دشمن جدوجہد کا حصہ ہے۔ یورپین ممالک میں بارہا توہین رسالت کے واقعات، مسجدوں کے میناروں کو گرانا، سکولوں، کالجوں میں حجاب دشمنی وغیرہ سب ایک ہی دشمن کے مقاصد و مراحل ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات کا خاتمہ اسلامیان عالم کے لئے تکلیف دہ بات ہے، اسی لڑائی اور پریشانی کی وجہ سے اس دفعہ ایران سے حجاج کرام حج پر سعودی عرب نہیں جا سکیں گے۔ یہ مسلمان ممالک کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اپنے درمیان محبت و صلح کے لئے سامراجی طاقتوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ہمارے مسلمان حکمرانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ اسلام کی وحدت تو مکہ مدینہ سے اٹھی تھی، مگر آج ہمارے عرب بھائیوں کو اسلام سے رہنمائی کیوں نہیں مل رہی۔ حکیم الامت علامہ اقبال تو اپنے آپ کو پیرروم کا مرید ہندی بتا کر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے کا درس دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے مکہ و مدینہ اور علامہ اقبال کی فارسی پر چلنے والوں میں کیا اختلاف۔ اے شاہانِ مدینہ و نجف اگر آپ عربی کلمہ کا سبق بھول بیٹھے ہیں تو انڈوپاک سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تو ہمیشہ کہا اور سنا جاتا ہے، مگر آج آخری امت کے آخری آسمانی کتاب کے حاملین کے ارباب اقتدار کن راہوں پر چل پڑے ہیں۔ ایک وہ منظر تھا کہ شاہ فیصل کے امت کے درد میں ڈوبے آنسو شاہی مسجد لاہور کی پاکیزہ فضا میں آنکھوں سے بہہ کر پاکستان کی خاک کو گواہ بنا گئے کہ تمہاری کامیابی کا راستہ اتحاد امت کا راستہ ہے، مگر وائے ناکامی کہ آج ایسا منظر ہے کہ فضاؤں میں سوال گھوم رہے ہیں کہ تم کدھر جا رہے ہو۔ پاکستان، شیعہ سنی نے یک جان ہو کر بنایا تھا اور یک جان ہو کر چلایا۔ ہم یہ تفرقہ برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ مسلمان سربراہانِ عرب و عجم سے درخواست ہے کہ اللہ جب سختی سے منع کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ تو ہم نے کیوں ان کے لئے ملکوں کے دروازے کھول رکھے ہیں؟وقت کی ایک ہی پکار ہے کہ افغانستان سمیت تمام ملکوں سے مغربی افواج خود نکل جائیں۔ حکمران اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں تو ان کے بغیر بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو ایک ہی مطالبہ کرنا ہو گا کہ مغربی افواج فوراً اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ مغربی ملکوں نے ہی اسلامی ملکوں میں نفرت کا بیج بویا ہے۔اسلامی ملکوں کے حکمران اپنے درمیان وقتی نفرتوں کو ختم کرکے علم و فضل کی قندیل ہاتھ میں پکڑ کر مسلم دنیاکے حکمرانوں کو ہدایت اور امن و سلامتی کا راستہ دکھائیں ، اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

مزید : کالم