23ہزار مقدمات پر 7کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا: خالد عیاض خان

23ہزار مقدمات پر 7کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا: خالد عیاض خان

  



لاہور( خبر نگار)ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات و پارکس پنجاب خالد عیاض خان نے کہا ہے کہ غیر قانونی شکاریوں اور وائلڈلائف قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف درج 22994 مقدمات پر محکمہ کے افسران اور عدالتوں کے ذریعے 6 کروڑ 67 لاکھ 81 ہزار روپے جرمانہ وصول کیے جا چکے ہیں ،صوبہ بھر کے ڈپٹی ڈائریکٹرز اور ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف افسران کوعدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر پیروی کرنے اور عدالتوں سے جلد فیصلوں کی درخواست کرنے کی بھی ہدایات دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بات لاہور چڑیا گھر اور لاہور سفاری زو پارک کے دورہ کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر نعیم بھٹی، ڈائریکٹر لاہور چڑیا گھر شفقت علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر لاہور سفاری زو پارک سید ظفرالحسن بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کے افسران نے 7952 مقدمات پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان سے 4 کروڑ 21 لاکھ 94 ہزار 729 روپے بطور محکمانہ جرمانہ وصول کیا ہے جبکہ عدالتوں میں 15042 مقدمات پیش کرتے ہوئے ذمہ داران سے2 کروڑ45 لاکھ86 ہزار247 روپے جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں خالد عیاض خان نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کا کام صرف غیر قانونی شکاریو ں سے جرمانے وصول کرنانہیں بلکہ غیر قانونی شکار کے رحجان کا خاتمہ کرنا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ تمام افسران کوغیر قانونی شکار کی روک تھا م کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے اورمسائل کے حامل علاقوں پر زیادہ فوکس کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام افسران کومحکمے کا امیج مزید بہتر بنانے میں اعلی کار کردگی کا مظاہر ہ کر نے اور عدالتوں میں موجود مقدمات کی پینڈنسی ہر صورت کلیئر کروانے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات نے ڈائریکٹر لاہور چڑیا گھر شفقت علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر لاہور سفاری زو پارک سید ظفرالحسن سے سکیورٹی انتظامات بارے دریافت کیا اور سکیورٹی کیمروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بھی ہدائت کی اور سیکورٹی مانیٹرنگ روم کا بھی معائینہ کیا۔انہوں نے تفریح کے لئے آنے والے چھوٹے بچوں کے لئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر لاہور سفاری زو پارک سید ظفرالحسن کو جاری ترقیاتی سکیموں پر کڑی نظر رکھنے اور ان کی جلد تکمیل یقینی بنانے کی بھی ہدائت کی۔

مزید : کامرس