ڈیری سیکٹر پر عائد ٹیکسوں پر نظر الثانی کی جائے : شاہد رشید بٹ

ڈیری سیکٹر پر عائد ٹیکسوں پر نظر الثانی کی جائے : شاہد رشید بٹ

  



اسلام آباد(کامرس ڈیسک)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ بجٹ ڈیری سیکٹر پر عائد کئے جانے والے ٹیکسوں پر نظر الثانی کی جائے ورنہ یہ شعبہ زوال کا شکار ہو جائے گا جبکہ صحت عامہ کے سنگین مسائل بھی جنم لینگے۔نئے ٹیکسوں کہ وجہ سے اس شعبہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی ختم ہو جائینگے۔ ڈیری سیکٹرکو زیرو ریٹنگ کی سہولت ملنی چائیے نہ کہ اسے بھی حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کا زریعے بنائے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ڈیری سیکٹرپر عائدنیا ٹیکس کا سٹرکچر انتہائی قابل اعتراض ہے۔دودھ کا استعمال صحت عامہ کیلئے ضروری ہے جبکہ خشک دودھ مہنگا ہونے سے ملک کے کروڑوں شیر خوار بچوں کی صحت ہر منفی اثرات مرتب ہونگے کیونکہ پاکستان میں پہلے ہی نصف کے قریب بچے پہلے ہی غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ دودھ کو اشیائے تعیش سمجھنے والے عوام دشمن اقدامات نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیری سیکٹر کے مداخل پر سترہ فیصد ٹیکس اور درامد شدہ خشک دودھ پر پچیس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنا غریب عوام پر ظلم ہے کیونکہ خشک دودھ کی درامدپر پہلے ہی بیس فیصد کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے سے دودھ کی قیمت میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ ہو جائے گا جبکہ ایک کثیر القومی پورپی کمپنی پاکستان میں پانچ سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کا فیصلے واپس لے سکتی ہے جو ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ مزکورہ کمپنی پاکستان کے دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی مگر اب خوفزدہ ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں زرعی شعبہ کو کافی مراعات دی ہیں جبکہ جاگیرداروں سے کوئی ٹیکس بھی وصول نہیں کیا جا رہا اسلئے انکی آمدنی بڑھانے کیلئے درامد شدہ دودھ کو مہنگا کرنے کے فیصلہ پر نظر الثانی کی جائے۔

مزید : کامرس