اسود الحسین ملیشیا کے جنگجوکو فی کس80 ہزار لیرہ دیے جانے کا انکشاف

اسود الحسین ملیشیا کے جنگجوکو فی کس80 ہزار لیرہ دیے جانے کا انکشاف

دمشق(این این آئی)شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑنے والی بھانت بھانت کی ملیشیاؤں میں ایک ان کے مقربین پر مشتمل ’’اسود الحسین‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس ملیشیا کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں افغان اور ایرانی جنگجوؤں کے ساتھ بشارالاسد کے قریبی عزیز شامل ہیں اور اس کی قیادت بشارالاسد کے ایک چچا زاد کے ہاتھ میں ہے۔عرب ٹی وی اسود الحسین نامی ملیشیا شام میں صدر بشارالاسد کی سب سے مہنگی ملیشیا ہے جس میں شامل فی کس جنگجو کو 80 ہزار شامی لیرہ ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔تحفظ شام ۔۔۔ اسود الحسین ملیشیا آل الاسد کے ماتحت ہے اوراس کے زیادہ تر جنگجو بشارالاسد کے آبائی شہر القرادحہ میں سرگرم ہیں۔ اسی شہر میں تنظیم میں رضاکارانہ طور پر لوگوں کی شمولیت کے لیے ایک مہم بھی چلائی گئی تھی۔ ساتھ ہی تنظیم میں شامل ہونے والوں کو فی کس 80ہزار لیرہ ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔اسود الحسین ملیشیا کی کمان کے بارے میں مصدقہ معلومات نہیں مل سکی ہیں تاہم ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ متذکرہ ملیشیا کی قیادت صدر اسد کے ایک چچا زاد محمد توفیق الاسد کے بھائی حسین الاسد کے ہاتھ میں ہے، مگر حسین الاسد کے بارے میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ وہ 2015ء کو مارا گیا تھا اور اس کی قیادت حسن الاسد کے ہاتھ میں ہے۔ فیس بک پر موجود اس کے صفحات پر اب بھی اس کی قیادت حسین الاسد ہی کے ہاتھ میں بتائی جا رہی ہے۔شامی اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق اسود الحسین ملیشیا میں ایران، افغانستان اور دوسرے ملکوں کے جنگجو شامل ہیں۔

اس تنظیم کی براہ راست تربیت اور ٹریننگ ایرانی فوجی کرتے ہیں۔ القرادحہ میں اسود الحسین ملیشیا کے جنگجوؤں کے ہمراہ ایرانی فوجیوں کو لڑتے بھی دیکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق داعش کے زیرقبضہ شہر تدمر کو چھڑانے کے لیے بھرتی کیے گئے جنگجوؤں کو ماہانہ فی کس 80 ہزار لیرہ ادا کیے جاتے رہے ہیں جب کہ اسی تنظیم کے جنگجو جنہیں اللاذقیہ اور دوسرے علاقوں میں متعین کیا گیا تھا کو ماہانہ 50 ہزار لیرہ ادا کیے جاتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر