یوروکپ 2016،برطانوی ،روسی اورپولیس کے درمیان تازہ جھڑپیں،متعددزخمی

یوروکپ 2016،برطانوی ،روسی اورپولیس کے درمیان تازہ جھڑپیں،متعددزخمی

  



و فٹبال کپ 2016 کے دوسرے روز انگلینڈ اور روس کے فٹبال شائقین اور پولیس کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں سات برطانوی شہری زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال میں منتقل کردیاگیا،میڈیارپورٹس کے مطابق برطانیہ کے سفیرجولین کنگ نے ٹوئیٹر پیغام میں کہاکہ لڑائی کے نتیجے میں بہت سے برطانوی فرانس کے ہسپتالوں میں ہیں۔برطانوی سفیر جولین کنگ نے کہاکہ رات میں کئی برطانوی شہری ہسپتال پہنچے ، اور سفارتخانہ فرانس کے حکام کے ساتھ اسے قریب سے دیکھ رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سفارتخانہ فرانسیسی حکام کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے۔

ان جھگڑوں کا آغاز تین دن قبل جمعرات کو نصف شب کے وقت مقامی نوجوانوں اور برطانوی فٹبال شائقین کے درمیان شہر کی پرانی بندرگاہ کے علاقے میں واقع ملکہ وکٹوریہ پب کے باہر ہوا تھا۔اور پھر یورو 2016 کے گروپ بی کے میچ کے دوران سٹیڈیم میں بھی شائقین کے درمیان جھڑپیں دیکھی گئیں ، انگلینڈ کے مداح خوف سے میدان کی خفاظتی باڑ سے کودنے لگے۔ انھوں نے ٹویٹ کیاکہ یوای ایف اے کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ بھگدڑ دھماکے کے نتیجے میں ہوئی۔ اس طرح کی چیز میدان میں پہنچی کیسے اور لوگوں کو علیحدہ کرنے والے کہاں تھے؟برطانوی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ ہم زخمی ہونے والے برطانوی شہری کے حوالے سے فرانسیسی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ادھرفرانسیسی پولیس نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک برطانوی شہری شدید زخمی ہوا۔ پر تشدد جھڑپوں کے تیسرے روز پولیس نے آنسو گیس اور واٹر گنز کا استعمال کیا۔پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ میچ سے قبل زخمی ہونے والے برطانوی شہری کو پولیس اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔یورپیئن فٹبال کے ادارے یوئیفا کا کہنا تھا کہ ہم مارسے میں ہونے والے اس حادثے کی مذمت کرتے ہیں اور جو لوگ بھی ان پرتشدد واقعات میں ملوث ہیں ان کی فٹبال میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر