بنگلہ دیش میں فورسزکا کریک ڈاؤن جاری ،مزید 700افرادگرفتار

بنگلہ دیش میں فورسزکا کریک ڈاؤن جاری ،مزید 700افرادگرفتار

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش میں سات سومزید مشتبہ افراد کو سکیورٹی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں ایسے مذہبی انتہا پسند بھی شامل ہیں، جن کی مبینہ تنظیموں پر اقلیتوں کے بعض افراد اور سیکولر کارکنوں پر قاتلانہ حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ایک حکومتی ترجمان نے بتایا کہ ڈھاکا حکومت اِس کریک ڈاؤن کے ذریعے مسلمان انتہا پسندوں کی پرتشدد سرگرمیوں کو روکنا چاہتی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کیے جانے والے ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد میں میں ایسے 37 انتہا پسند مسلمان بھی شامل ہیں، جن کا تعلق بنیاد پرست تنظیموں سے ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے پانچ جون کو ایک پولیس افسر کی بیوی کی ہلاکت کے بعد انسدادِ انتہا پسندی کی سرکاری مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے وہ پرتشدد کارروائیوں میں مطلوب ہیں اور ان میں سے بیشتر گذشتہ تین برسوں میں ہونے والے ’ٹارگٹ کلنگ‘ یا ہدف بنانے کر ہلاک کرنے کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔گذشتہ ہفتے ایک ہندو پجاری کی لاش ایک دھان کے کھیت سے ملی تھی۔ اس کے علاوہ ایک مسیحی دکاندار کو بھی گرجا گھر کے قریب ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل انسداد دہشت گردی فورس کے ایک افسر کی بیوی کو دن دھاڑے چھریوں کے وار کرنے کے بعد گولیاں مار کر بڑی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

مزید : عالمی منظر