بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تو خراب بھی نہیں ،نیوکلیئر گروپ میں شمولیت کے لئے کئی ممالک ہماری حمائت کریں گے :سینیٹر سرتاج عزیز

بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تو خراب بھی نہیں ،نیوکلیئر گروپ میں شمولیت کے ...
بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تو خراب بھی نہیں ،نیوکلیئر گروپ میں شمولیت کے لئے کئی ممالک ہماری حمائت کریں گے :سینیٹر سرتاج عزیز

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ2013 ء سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تو خراب بھی نہیں ہیں ، بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے تو بہت سی چیزوں پر پیشرفت ہو سکتی ہے، افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا معاملہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے،پاکستان کو نیوکلیئر گروپ میں شمولیت کے لئے تمام ممالک سے رابطہ کیا ہے ،چین سمیت کئی ممالک نے حامی بھری ہے جبکہ کوریا میں ہونے والے اجلاس کے بعد مزید کئی ممالک ہمارے موقف کی حمایت کریں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ معاشی بحالی کے لئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ،ان کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہئے ،مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے 4 ملکی گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے اور سہ فریقی گروپ کے پانچویں اجلاس میں امن مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، آپریشن ضرب عضب سے ہمارا افغان طالبان پر اثر رسوخ کم ہو گیا ہے ، مذاکرات کا مرحلہ پاکستان اکیلے نہیں نبھا سکتا ہے، طالبان گروپوں کے ساتھ چاروں ملکوں کے رابطے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو یکطرفہ طورپر این ایس جی میں شامل کرنے سے خطہ عدم توازن کا شکار ہو جائے گا، ہم جنوبی اشیاء میں توازن کو بگڑنے نہیں دیں گے ،ہم ٹرائی پار ٹائٹ ممالک سے رابطے اس وقت شروع کر رہے ہیں ، جب بھارت این ایس جی میں مستقل رکنیت کے لئے درخواست دے گا تو ہم فوراً اپنی درخواست بھی آگے کردیں گے۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ این پی ٹی کے لئے الگ معیار رکھا جائے،جب این پی ٹی کے لئے معیار بنایا جائے گا تو خود بخود اس کی رکنیت کے لئے ہمارا بھی وہی معیار ہو گا جو بھارت کے لئے ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جنرل راحیل شریف سے جی ایچ کیو میں ملاقات میرے کہنے پر ہوئی تھی ، اس وقت میرے اختیارات 1998 ء کے وزیر خارجہ کے اختیارات سے زیادہ ہیں ، میں اپنے اختیارات میں کوئی کمی محسوس نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ 2013 ء سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہوئے تو خراب بھی نہیں ہوئے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں اگر بھارت مذاکرات شروع کر رہا ہے تو اس سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

مزید : قومی