شامی ڈیمو کریٹک فورسز سے گھمسان کی جنگ میں 160داعش جنگجو ہلاک

شامی ڈیمو کریٹک فورسز سے گھمسان کی جنگ میں 160داعش جنگجو ہلاک

لندن/دمشق(این این آئی)شام میں انسانی حقوق کی صورت حال کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے’آبزرویٹری‘ نے بتایا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ کرد ڈیموکریٹک فورسز نے شمالی شام میں داعش کے ایک اہم مرکز کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اس دوران منبج اور اطراف میں جاری گھمسان کی جنگ میں 160 داعشی شدت پسند اور ڈیموکریٹک فورس کے 20 جنگجو ہلاک ہوئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق آبزرویٹری کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل ڈیموکریٹک فورسز حلب کے شمال مشرق میں واقع داعش کے اہم گڑھ الباب شہر سے 17 کلو میٹر دور ہیں۔ داعشی جنگجو پسپا ہو رہے ہیں جب کہ اعتدال پسند اپوزیشن کی نمائندہ تنظیم پیش قدمی کر رہی ہے۔آبزرویٹری کے مطابق ڈیموکریٹک فورسز نے الباب شہر کا ایک ہفتے سے جاری محاصرے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے منبج قصبے میں داعش کی آخری سپلائی روٹ بھی کاٹ دیا، جس ک نتیجے میں داعشی جنگجو چاروں اطراف سے گھیرے میں آ گئے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ منبج اور اطراف میں جاری لڑائی میں کم سے کم 160 داعشی شدت پسند اور ڈیموکرکیٹک فورس کے 20 جنگجو ہلاک ہوئے ۔کرد ڈیموکریٹک فورسز کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شام اور ترکی کی سرحد پر داعش کیٹھکانوں پر امریکی جنگی طیارے بھی مسلسل بمباری کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں زمینی فورس ز کو پیش قدمی کا موقع ملا ہے۔

مزید : عالمی منظر