پاکستان کی وجہ جگہیں جہاں پاکستانیوں کا ہی داخلہ منع ہے

پاکستان کی وجہ جگہیں جہاں پاکستانیوں کا ہی داخلہ منع ہے
پاکستان کی وجہ جگہیں جہاں پاکستانیوں کا ہی داخلہ منع ہے

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یقینا آپ اس انکشاف پر دنگ رہ جائیں گے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جہاں غیرملکی تو جا سکتے ہیں مگر یہ جگہیں خود پاکستانیوں کے لیے شجرممنوعہ قرار پا چکی ہیں۔ کیا شرم کا مقام ہے کہ غیرملکیوں نے پاکستان کے اندر ایسی جگہیں بنا رکھی ہیں جہاں پاکستانیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ کیا کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک میں جا کر ایسا اقدام کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ یا اسے وہاں کی حکومت ایسا کرنے کی اجازت دے گی؟؟ویب سائٹ ونڈرفل پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کے لیے ممنوع قرار دی گئی ان جگہوں میں اسلام آباد میں غیرملکیوں کے قائم کردہ تین ہوٹل اور ڈپلومیٹک انکلیو شامل ہیں۔

ان میں پہلا ایک فرانسیسی ہوٹل ہے جس کا نام لا میسن (La Maison)ہے۔ فلپ لیفورج نامی شخص نے یہ ہوٹل 2014ءمیں قائم کیا۔ اس ہوٹل میں صرف غیرملکیوں کو آنے اور کھانا کھانے کی اجازت تھی۔ جب پاکستانیوں کی طرف سے اس پر احتجاج کیا گیا تو ہوٹل کی انتظامیہ کی طرف سے انتہائی انوکھی منطق بیان کی گئی کہ چونکہ شراب نہیں پیتے اور یہاں گاہکوں کو شراب پیش کی جاتی ہے، اس لیے مسلمانوں کا داخلہ منع کیا گیا۔

دوسرا ہوٹل ”دی کورڈن روز“ (The Cordon Rouge) ہے جو 2009ءمیں قائم کیا گیا۔ اس ہوٹل کی انتظامیہ نے آغاز میں اپنے مرکزی دروازے پر ”صرف غیرملکی“ (Foreigners Only)کا بورڈ لگا رکھا تھا۔ پاکستانیوں کے احتجاج پر بورڈ تو ہٹا دیا گیا مگر اب بھی یہاں پاکستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہاں آنے والے پاکستانیوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا روا رکھا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ آنے کی جرات ہی نہیں کرتے۔

تیسرا ہوٹل ”ایٹ ہوم“ (At Home)ہے جو ایک چینی ریسٹورنٹ ہے اور اسلام آباد میں ایف 1-8، سٹریٹ 3، ہاﺅس 12اے میں واقع ہے۔ اس کی پالیسی کے تحت بھی یہاں صرف غیرملکی ہی آ سکتے ہیں، پاکستانی نہیں۔ ان تین جگہوں کے بعداسلام آباد کا ڈپلومیٹک انکلیو ہے جہاں کسی پاکستانی کو پاﺅں دھرنے کی اجازت نہیں، تاوقتیکہ وہ کسی غیرملکی کے ہمراہ نہ ہو۔ گویا کسی غیرملکی کا مہمان بن کرتو کوئی پاکستانی یہاں جا سکتا ہے، اکیلے میں نہیں۔ شاید اسلام آباد کا یہ حصہ پاکستان کا حصہ نہیں، ان غیرممالک کی جاگیر ہے جن کے سفراءیہاں مقیم ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس