غیر ملکیوں نے سعودی حکومت کی پابندی ہوا میں اڑا دی،سڑکوں پر ایسا کام شروع کر دیا کہ سعودی حکام بے بسی کی تصویر بن گئے

غیر ملکیوں نے سعودی حکومت کی پابندی ہوا میں اڑا دی،سڑکوں پر ایسا کام شروع کر ...
غیر ملکیوں نے سعودی حکومت کی پابندی ہوا میں اڑا دی،سڑکوں پر ایسا کام شروع کر دیا کہ سعودی حکام بے بسی کی تصویر بن گئے

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ برسر روزگار کرنے کے لیے ”سعودائزیشن پروگرام“ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں تارکین وطن کے نوکری کرنے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ ان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ بھی ہے جس میں حکومت موبائل فونز کی دکانوں پر غیرملکیوں کو کام کرنے سے روک چکی ہے تاہم غیرملکیوں نے اس کا ایک حل نکال لیا ہے۔سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق دکانوں سے نکالے جانے کے بعد تارکین وطن نے سڑکوں پر موبائل فون اور ان سے متعلقہ سامان فروخت کرنا شروع کر دیا ہے اور یوں سعودی حکومت کو چکمہ دینے لگے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام رمضان المبارک کے اختتام تک ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں 50فیصد نوکریاں سعودی شہریوں کو دلوانے کے لیے کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی دکانوں کو بند کیا جا رہا ہے اور تارکین وطن کو ملازمت دینے والے دکانداروں کو جرمانے کیے جا رہے ہیں۔ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ”حکومت کے اس اقدام کے باعث ہمارے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں کیونکہ سعودی شہری دکانوں میں سیلز مین کی نوکری کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کیونکہ اس نوکری میں تنخواہ بہت کم ہوتی ہے۔ ہم دکاندار اتنی زیادہ تنخواہ نہیں دے سکتے جتنی وہ طلب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سٹور اب تک بند ہو چکے ہیں اور ان سٹورز کے مالکان بچا کھچا سامان غیرملکیوں کے ذریعے سڑکوں پر فروخت کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ موبائل فونز کی مارکیٹوں میں دکانیں بند ہونے کی وجہ سے دکانوں کے کرایوں میں بھی 70فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔

مزید : عرب دنیا