معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونے لگی ، قتل کی وارداتیں عام ہو گئیں

معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونے لگی ، قتل کی ...

 لاہور (رپورٹ: محمد یونس باٹھ، بلال چوہدری تصاویر: ذیشان منیر)انسانی معاشرہ ایک گل دستے کی طرح ہے جس طرح گل دستے میں مختلف رنگ کے پھول اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف المذہب اور مختلف النسل کے افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی امتیاز اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتا ہے ، اگر کسی جگہ ایک ہی نسل اور مذہب کے لوگ رہتے ہوں تو اسے ہم معاشرتی گروہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے خالصتاٌ معاشرے کا درجہ نہیں دے سکتے۔میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفات معاشرے سے ختم ہو چکی ہیں۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔عدم برداشت کی وہ لہراب لگتا ہے کہ معاشرے کو دیوانگی اور بربریت کے خلاف مزاحمت کی آخری امید سے بھی محروم کر دے گی۔عدم رواداری کے اس بڑھتے ہوئے خوفناک رجحان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تشدد اور قتل کے ایسے ایسے لرزہ خیز واقعات پیش آرہے ہیں کہ جن کا ذکر کرتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔گزشتہ دنوں لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں ہوٹل میں کام کرنے والے ویٹر نے لڑائی جھگڑے کے بعد اپنے 4 ساتھی ویٹروں کے گلے کاٹ دئے جس کے نتیجے میں تین ویٹر ہلاک جب کہ چوتھا زخمی ہوگیا، ملزم کراچی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ اسلام پورہ لاہور کا گنجان آباد اور مصروف ترین علاقہ شمار کیا جاتا ہے جہاں کے بازاروں میں صبح سے لیکر رات گئے تک دکانیں کھلی رہتی ہیں۔ نوری بلڈنگ کے قریب الرحیم مرغ چنے اور تکہ شاپ کی دکان میں کام کرنے والے پانچ ملازم رات کو دکان میں ہی سو جاتے تھے ،ملازمین میں عمر ، نعیم ، شہریار،جاوید افغانی اور زین العابدین شامل تھے۔ واقعہ کے روز ایک ملازم معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر آیا اور شٹر پر دستک دیتا رہا لیکن کسی نے شٹر نہ اٹھایا جس پر اس نے مالک کو اطلاع دی۔ شٹر باہر سے بھی بند ہونے کی وجہ سے اسے کاٹا گیا تو اندر تین ملازمین مردہ حالت میں جبکہ ایک شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ تینوں افراد کو چھریوں اور سیخوں کے وار کرکے بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122اور پولیس کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے سب سے پہلے شدید زخمی حالت میں موجود ملازم مردان کے رہائشی زین العابدین کو میو ہسپتال منتقل کیا جبکہ فرانزک ماہرین کو طلب کر کے دکان کے اندر سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد لاشوں کو پوسٹمارٹم کے لئے میو ہسپتال منتقل کیاگیا۔ ہوٹل میں سونے والا پانچواں ملازم جاوید افغانی موقع پر موجود نہ تھا۔ ریسٹورنٹ کے زخمی ہونے والے نوجوان زین العابدین نے ہسپتال میں بتایا کہ غائب ملازم جاوید افغانی ہی تینوں افراد کا قاتل ہے۔ اس کے مطابق چند روز قبل معمولی بات پر ملازم جاوید سے ان چاروں کا جھگڑا ہو گیا تھا جبکہ بعد ازاں ان میں صلح ہو گئی تھی ۔وقوعہ کے روز جاوید نے کمرے میں آتے ہی ان کی آنکھوں میں مرچیں ڈال دیں اور ساتھ ہی تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا ،زین العابدین کا کہناتھا کہ اس نے بہت مشکل سے باتھ روم میں گھس کر اپنی جان بچائی جبکہ باقی تین ساتھیوں عمر ،شہریار اور نعیم کو جاوید نے قتل کر دیا۔ جبکہ ملزم جاوید جاتے ہوئے سب کی جیبوں سے رقم بھی لے گیا۔بیدردی سے قتل کئے جانے والے ملازمین 25سالہ نعیم کی شادی ہونے والی تھی جبکہ،35سالہ شہر یار اور 28سالہ عمر شادی شدہ تھے۔ تہرے قتل کے واقعہ کے بعد پولیس کے ہاتھ مشتبہ شخص تو نہ آیا البتہ اس کے بڑے بھائی کو دھرلیا گیا۔بعد ازاں پولیس نے ملزم کو موبائل فون کے ذریعے کراچی میں ٹریس کیا اور اس کو گرفتار کر لیاگیا۔جس نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ اسلام پورہ کے رہائشیوں ،ہوٹل کے ساتھ موجود دکانوں کے مالکان و ملازمین اور دیگر سماجی شخصیات کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرہ میں عدم برداشت کا عنصر نہایت تیزی سے فروغ پا رہا ہے جو کہ معاشرہ کو تباہی کے دہانے کی جانب دھکیل رہا ہے ۔معمولی باتوں پر قتل کے واقعات کا ہونا ایک معمول کی بات بن چکی ہے اسی طرح سے کمسن ملازمین پر تشدد کے واقعات میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ بڑھتے ہوئے ان واقعات کا سدباب تو بعد کی بات ، منظر عام پر آنے والے ان واقعات کی تفتیش میں پولیس اہلکاروں و افسران کی جانب سے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔پولیس اہلکاروں کے پاس جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور ان کو محفوظ کرنے کے لیے خاطر خواہ ٹریننگ موجود نہیں ہے ۔بڑے سانحات کی صورت میں تو فرانزک ٹیم کو بلوا لیا جاتا ہے لیکن معمول میں ہونے والے ایسے واقعات کے شواہد پولیس اہلکاروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں جن میں سے اکثر ضائع ہو جاتے ہیں ۔اگر مجرم خود اعتراف جرم نہ کرے تو پولیس کے لیے عدالت میں اس کا جرم ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہو کر رہ جاتا ہے ۔یہ صورتحال معاشرہ میں بڑھتی ہوئی بے حسی کا سبب بن رہی ہے کیونکہ عوام الناس کو پولیس کے نظام اور ان کی قابلیت کا بخوبی اندازہ ہے اس لیے وہ کوئی بڑا جرم کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے ہیں۔اسی طرح سے معاشرہ میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور مذہب سے دوری عدم برداشت کا کا سبب ہے ۔ مہنگائی میں اضافہ کی وجہ سے عوام نہایت تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے ان میں برداشت کا عنصر کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور 10روپے جیسی معمولی رقم پر بھی لڑنے جھگڑنے اور یہاں تک کہ قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔معاشرہ میں مذہب سے دوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے لوگوں میں خوف خدا نہیں رہا جس کی وجہ سے ایسے واقعات کا ہونا معمول کی بات بن چکا ہے ۔مذہب انسان کو اخلاق کا درس دیتا ہے، اس کے اندر ایسے اعلیٰ اوصاف پیدا کرتا ہے کہ وہ بہترین انسان بنے اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو ، مگر ہمارے معاشرے میں مذ ہب کو ہی سب سے زیادہ جارحیت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ، مختلف مکاتب فکر کے اختلافات کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ مختلف فرقوں کے افراد ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہیں۔ کچھ مذہبی گروہ مذہب کو بالکل ہی مختلف انداز میں استعمال کر رہے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ان کا پسندیدہ مذہب نافذ کیا جائے اور اس کے لئے مسلح جد وجہد کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام تو میانہ روی اور رواداری کا درس دیتا اور دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو معاف کر دینے کو افضل قرار دیا گیا ہے ، اسی طرح دوسرے مذاہب چاہے وہ الہامی ہیں یا انسانوں کے بنائے ہوئے سب میں دوسروں کو برداشت کرنے کا درس دیا گیا ہے ، مگر بدقسمتی سے مذہب کی اصل روح کو سمجھنے کی بجائے اس کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی جاتی ہے، یوں مذہب سوسائٹی کی اصلاح کی بجائے لڑائی جھگڑے اور فساد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ناخواندہ افراد پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے اور ان میں مذہب کی روح کے مطابق اس پر عمل کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو پاتی ہے۔بد قسمتی سے پاکستان میں نا خواندگی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں اخلاقی اقدار گر رہے ہیں اور انسانیت سوز واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نئی نسل کو تربیت دینے اور ان کے بہتر روزگار کا بندوبست کر کے کرنا ہو گا۔

مزید : علاقائی