معاشرہ اور صحافت ۔۔۔ توبہ بھئی توبہ

معاشرہ اور صحافت ۔۔۔ توبہ بھئی توبہ
 معاشرہ اور صحافت ۔۔۔ توبہ بھئی توبہ

  



پھر وہی ہوا، ایک ٹی وی پروگرام میں ایک مولوی صاحب نے ایک لبرل خاتون کے ساتھ بدکلامی کی، مولوی صاحب ہمار ی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں، جواب میں خاتون نے بھی کسی شرم ، حیا کا دامن نہیں پکڑا بلکہ ترکی بہ ترکی رہیں، جہاں مولوی صاحب کی عدم برداشت اور غلیظ گفتگوکی کوئی توضیح پیش نہیں کی جا سکتی تو دوسری طرف لبرل خاتون کے سوشل میڈیا پر موجود صفحے پر بھی اخلاقیات کے جوہر بکھرے نظر نہیں آتے، وہ بھی گالی کواپنی گفتگو کے حسن اور ہتھیارکے طور پر پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ تو پروگرام کے دو شرکاء کا معاملہ ہوا، پروگرام کے پروڈیوسر اور اس کی اینکر ریکارڈنگ کر رہے تھے یعنی وہ پروگرام لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں ہو رہا تھا مگر وہ دانستہ طور پر بدکلامی باقاعدہ سکرین پر چلائی گئی۔ ان چاروں کے ساتھ ایک مجرم اور بھی ہے جو ہمارا معاشرہ ہے،میڈیا اسی کا آئینہ ہے۔ ’ ٹین پی ایم ود نادیہ مرزا‘ کے رات دس بج کر بائیس منٹ پر آن ائیر ہونے کے تھوڑی ہی دیر کے بعدا س پروگرام کے کلپس سوشل میڈیا پر موجود تھے ، انہیں بے پناہ ویوز اور ہٹس مل رہے تھے، بنیاد پرست سوچ رکھنے والے ماروی سرمد کے کے لئے کم و بیش وہی زبان استعمال کر رہے تھے جو مولانا حمد اللہ نے کی، دوسری طر ف لبرل تھے جو مولوی صاحب کو اسی طرح کی گالیوں سے لتاڑ رہے تھے ، ایک محدودتعداد تھی جو اخلاقیات کی بات کر رہی تھی ۔ اس ویڈیو کلپ نے نیوز ون کے پروگرام کو اچانک بہت سارا مشہور کر دیا حالانکہ نادیہ مرزا کو اس فیلڈ میں ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے۔ وہ آج ٹی وی میں نیوز اینکر ہوا کرتی تھیں اورپھر انہوں نے بہت سارے دوسرے نیوز اینکروں کی طرح پروگرام اینکر بننے کی خواہش پال لی تھی۔ستم ظریفی ہے کہ جب آپ اپنے پروگراموں میں غربت، جہالت، بے روز گاری جیسے سنگین مسائل کو ڈسکس کرتے ہیں تو اس کے کلپس شئیر نہیں ہوتے ، اسے دیکھنے اور اس پر تبصرہ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا مگر جب آپ گالی دیتے ہیں تو اسے بہت رسپانس اور ریٹنگ ملتی ہے۔ ٹی وی پروگراموں سے باہر بھی، پارلیمنٹ کے اندر بھی، جلسہ گاہوں اور کنٹینروں کے اوپر بھی، مولانا ڈیزل جیسے الفاظ کو شہرت ملتی ہے، خواجہ برادری کے رہنماوں کو خواجہ سرا کہنے پر تالیاں بجتی ہیں، جب مرد رہنما دوپٹے سر پر لپیٹ کر نقلیں اتارتے ہیں تو اسے داد دی جاتی ہے، کسی خاتون کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا ہے تو بہت سارے پوچھتے ہیں کیا وہ واقعی ٹریکٹر ٹرالی نہیں لگتی؟

کہتے ہیں کہ میڈیا معاشرے کو مہذب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے اور دوسری طرف میڈیا والے کہتے ہیں کہ اگر وہ عوام کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہ رکھیں تو انہیں کون دیکھے، جب کوئی دیکھے گا ہی نہیں تو اس سے سبق کیسے حاصل کرے گا ۔میڈیا ہاوسز کمرشل ہو چکے، انہیں بہر صورت ریٹنگ چاہئے کہ اسی ریٹنگ کے ساتھ انہیں اشتہارات ملتے ہیں۔ یہاں میڈیا کے کارکن دو طرح سے ٹریپ ہوتے ہیں، پہلا جال مقبولیت پھیلاتی ہے اور دوسرا ادارے کا بزنس، ہر کارکن چاہتا ہے کہ اس کی خبر یا پروگرام ہٹ ہو اور دوسراسوچا جاتا ہے کہ اگر ٹی وی چینل ہٹ ہو گا تو اسی سے اشتہار ملیں گے، اشتہار ملیں گے تو مالکان تنخواہیں دیں گے۔پیمرا نے اس پروگرام پر جو خط جاری کیا ہے وہ صورتحال کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ پیمرا 26مئی کو ٹی وی چینلوں کو فائنل وارننگ جاری کر چکا ہے کہ وہ محض ریٹنگ کے لئے کسی کی پگڑی اچھالنے، لڑائیاں دکھانے یا اشتعال دلانے کے لیے استعمال نہیں ہوں گے ۔ تمام ٹی وی چینلوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ ایڈیٹوریل کمیٹیاں قائم کریں گے۔ اظہار وجوہ کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صحافت جیسا اعلیٰ پیشہ ایسے غیر پیشہ ور لوگوں کے ہاتھ میں آتا جا رہا ہے جو اس کی افادیت کو جان بوجھ کے خراب کر رہے ہیں تاکہ صحافت کی ساکھ مکمل طور پر خراب ہوجائے۔

پیمرا کی طرف سے ہمارے مرض کی تشخیص تو درست کی گئی ہے۔ ہمارے اخبارات میں ایڈیٹر کا عہدہ نان پروفیشنل مالکان کے آنے کے بعد دم توڑ چکا ہے۔ اب مالک ہی اخبارکا ایڈیٹر بلکہ چیف ایڈیٹر ہے کیونکہ اس کے پاس چاہے صحافتی تجربہ اور وژن نہ ہو مگر جیب میں پیسہ ہے ۔ ٹی وی چینلوں میں ڈائریکٹر پروگرامنگ اور کرنٹ افئیرز عہدے بھی اب ان کے پاس ہیں جو کبھی محض فلمیں بنایا اور کیمرے چلایا کرتے تھے۔ اخبارات میں بہت سارے کالم نویس وہ ہیں جو مالک کے دوست مگرعملی طو ر پر کسی دوسرے پروفیشن سے منسلک ہیں۔ اسی طرح کرنٹ افئیرز کے پروگراموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اینکرز بھی اوپر سے ناز ل ہو رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے بچپن کی عمر سے نکلنے کے باوجود ابھی تک وہی اینکر میرٹ پر آتے ہیں جو سب سے زیادہ بدتمیزی کر سکتے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی طرح عوام کے غم و غصے کی اصل ترجمانی ہو سکتی ہے۔ صحافت تو کہیں دو ر پیچھے رہ گئی ہے ۔ ایک بزرگ خاتون جو ماتھے پر زیادہ تیوریاں ڈالتی ہیں وہ خود کو زیادہ اچھی اینکر سمجھتی ہیں۔ ایک صاحب جو کبھی بدتمیزی سے ریٹنگ لیا کرتے تھے اب بھی اپنی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ پروگرام میں پروڈیوسر کا کردار بھی اہم ہو ا کرتا تھا مگر کرنٹ افئیرز کے طاقت ور اور مالکان کے قریب اینکرز نے پروڈسروں کو محض اپنا سیکرٹری بنا کے رکھ لیا ہے۔ رفتہ رفتہ کرنٹ افئیرز کے پروڈیوسروں میں بھی وہ کھیپ آ گئی ہے جو پہلے صرف کیمرہ مین، لائیٹ مین یا گیسٹ کوارڈی نیٹر تھے۔ یہاں درکار قابلیتوں اور خوبیوں میں صحافت کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں نیوز اینکروں کو بھی کرنٹ افئیرز کے پروگراموں کے میزبان بننے کا شوق چڑھاحالانکہ خبریں پڑھنے اور پروگرام کرنے کے درمیان تجربے اور صلاحیت کا زمین آسمان جیسا فرق ہوتا ہے۔ نیوز اینکر اگرچہ زمانے بھر کی خبریں پڑھتا ہے مگر بعض اوقات، بہت بڑی تعداد کا نالج اس کے باوجود زیرو ہوتا ہے کیونکہ وہ خبریں ایک روٹین میں سامنے لگے ہوئے پرامپٹر پر پڑ ھ رہا ہوتا ہے۔ وہ بعض اوقات خبریں پڑھتے ہوئے اتنا خالی الدماغ ہوتا ہے کہ اسے کا، کی، کے کی غلطیاں بھی نظر نہیں آتیں،اس کے کان میں ایک ٹونٹی آئی ایف بی کے نام کی لگی ہوتی ہے جس میں پینل کی طرف سے اسے ہدایات موصول ہو رہی ہوتی ہیں جبکہ کرنٹ افئیرز کے پروگرام کے اینکر کے لئے حالات حاضرہ پر کمانڈ ضروری ہے۔ اس وقت حقیقی کامیاب وہی پروگرام اینکرز ہیں جنہوں نے صحافت بالخصوص رپورٹنگ میں مار کھائی ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے ٹی وی چینلوں پر عوامی مسائل کی ترجمانی نہیں ہو رہی یا ان کے حل کے لئے مساعی نہیں ہو رہی، سب کچھ ہو رہا ہے مگر بہت ہی عجیب و غریب طریقے سے ہو رہا ہے۔ ہم ہارڈ ٹاک اس کو سمجھتے ہیں جس میں اینکر یا مہمان گالی دے دے۔ الیکٹرانک میڈیا نے اتنی تیزی کے ساتھ پھیلاؤ کا سفر طے کیا ہے کہ پیشہ ور ، سنجیدہ اور تجربہ کار صحافیوں کی شدید کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس کمی کو ڈرامے بازوں نے پورا کیا ہے اور کرنٹ افئیرز کو بھی ایک سکرپٹڈڈرامہ بنا کے رکھ دیا ہے۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ نیشنل چینلوں پر بہت سارے اینکروں کو اب بھی سوالوں ہی نہیں بلکہ وقفوں اور اختتام پر بولنے کے لئے پورا سکرپٹ دیا جاتا ہے۔ ان کی ایشو زپر اپنی کمانڈ زیرو ہوتی ہے اور اگر ایسے میں پروڈیوسر بھی کسی ناتجربہ کار کو بنا دیا جائے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو ابھی حال ہی میں ہوا۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ میری معاشرتی روایات بہت زیادہ اچھی نہیں ہیں۔ یہاں گالی دینے والے کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اوراس کے ساتھ اگر میرے نیوز اور کرنٹ افئیرز کے ٹی وی چینلز بھی بد تمیزی اور کمرشل ازم کی اسی لہر میں بہہ گئے تو یقینی طور پر بڑی تباہی ہو گی۔خوشی کی بات ہے کہ پیمرا نے اس پروگرام پرا ظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سوا ل کیا ہے کہ کیوں نہ مذکورہ پروگرام کو بند کر دیا جائے اور کیوں نہ چینل کو دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے۔ چینل اس پر17جون تک جواب دینے کا پابند ہے جس سے دوسروں کو بھی کان ہوں گے۔ ہم میڈیا والے اپنا قصور،کمی اور کوتاہی مانتے ہیں مگر ایک ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ مولوی حمد اللہ اور ماروی سرمدجیسوں کے خلاف کون ، کب کارروائی کرے گا ؟

مزید : کالم