شیعہ ،سنی تصادم کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، طاہر محمود اشرفی

شیعہ ،سنی تصادم کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، طاہر محمود اشرفی

  



لاہور (نمائندہ خصوصی)پاکستان میں مختلف مسالک اور مذاہب کے لوگ باہمی اتحاد و اتفاق سے رہ رہے ہیں۔مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا تعین آئین پاکستان نے کردیا ہے اور کسی گروہ ، جماعت یا فرد کو کسی دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان میں شیعہ ،سنی تصادم کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے وزارت اوقاف قطر کے زیر اہتمام ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر مفتی اعظم کروشیا،مفتی اعظم تیونس ،رابطہ علمائے مسلمین کے نائب صدر بھی موجود تھے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بین المذاہب بین المسالک مکالمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔قرآن کریم کے حکم کے مطابق ’’تمہارے لئے تمہارا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین ‘‘کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم نوجوانوں کو داعش اور حزب اللہ جیسی تنظیمیں یرغمال بنارہی ہیں ان تنظیموں کے تکفیری عزائم سے مسلم نوجوانوں کو بچانے کیلئے علماء اسلام کو اپنا کرداراداکرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ شام ،عراق،اور یمن میں روس اور ایران کی مداخلت کی وجہ سے عالم اسلام خطرناک صورتحال سے دوچار ہوتا چلاجارہا ہے۔ کسی بھی ملک کا دوسرے ممالک کے لوگوں پر اپنے نظریات کو مسلط کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں ہے اسلئے ملت اسلامیہ کو ایسے ممالک اور عناسر کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا جو عالم اسلام پر اپنی فکر اور سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں انتہاپسنداور تکفیری سوچ رکھنے والی تنظیمیں موجود ہیں لیکن وہ پاکستانی معاشرے کو یرغمال نہیں بناسکتیں ۔پاکستانی معاشرہ امن،رواداری کی بہترین مثال ہے۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بعض مواقع پر مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان تصادم کے واقعات ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان کی مذہبی اور سیاسی قیادت باہمی مشاورت سے اس کو حل کرلیتی ہیں ۔ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہا کہ حج اور عمرہ پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔ ماضی میں مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورۃ میں نکالے جانے والے جلوسوں کے نتیجہ میں ہونے والے تصادم سے جو افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی وہ ساری دنیا کے سامنے ہے ۔ایرانی حکومت کو چاہئے کہ وہ حجاج کرام کو حج کے فریضہ سے نہ روکے اور حج و عمرہ پر سیاست کی بجائے عالم عرب کے ساتھ اپنے مسائل کو باہمی مذاکرات سے حل کرے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1