پانی کی قلت کیخلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے

پانی کی قلت کیخلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے

لاہور (خبر نگار) صوبائی دارالحکومت میں اتوار کے روز بھی شہری شدید گرمی اور روزے کے ساتھ پانی کی شدید قلت کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے رہے ہیں احتجاجی مظاہروں کے دوران شہریوں نے واضح کہا کہ میٹرو ٹرین نہیں چاہیے اور پینے کاصاف پانی چاہئے لیاقت آباد قاضی پارک شاہدرہ، اچھرہ بھٹی پارک، مدینہ کالونی شالیمار، غازی آباد، سمن آباد اور فضل کالونی ٹاؤن شپ کے مکینوں نے پانی کی شدید قلت کے خلاف الگ الگ احتجاجی مظاہرے کئے ہیں جبکہ بھٹی کالونی اچھرہ کے مکینوں نے مضرصحت اور سیوریج سے ملے پانی کے آنے پر زبردست احتجاج کیا ہے۔ قاضی پارک شاہدرہ کے مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کے دوران کہا کہ چار دن سے ٹیوب ویل خراب ہے۔ علاقے کے منتخب نمائندے بات نہیں سنتے ہیں واسا حکام نے بھی چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔جبکہ فضل کالونی ٹاؤن شپ کے مکینوں نے واسا کے دفتر کے سامنے سڑک بلاک کر کے شدید گرمی میں روزہ داروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مظاہرہ کے دوران کہا کہ میٹرو ٹرین نہیں چاہئے بلکہ پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔ اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور پانی کی بوند بوند کو ترس کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح لیاقت آباد کے مکینوں نے ماڈل ٹاؤن میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم ہاؤس کی جانب جانا چاہا۔ تاہم پولیس نے مظاہرین کو روک لیا اسی طرح اچھرہ کی آبادی بھٹی کالونی کے مکینوں نے بھی پانی کی قلت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر مکینوں کا کہنا تھا کہ گھروں میں گندا پانی آ رہا ہے اور صاف پانی کی بجائے سیوریج سے ملا پانی آ رہا ہے جس سے بچے اور بوڑھے پیٹ و جگر کے بیماریوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں اسی طرح غازی آباد کے مکینوں کا کہنا تھا کہ سولنگ روڈ اور برجی نمبر 9 نظام آباد سمیت لیڈی پارک کے ٹیوب ویل خراب پڑے ہیں اور ان علاقوں کے تینوں ٹیوب ویل خراب ہونے سے 15 روز سے پانی کی قلت کا سامنا ہے اور ماہ رمضان شروع ہونے پر سحری اور افطاری کے اوقات میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کونوٹس لینا چاہئے جبکہ اس حوالے سے واسا کے وائس چیئرمین چوہدری شہباز احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں پانی کی قلت پر اگلے 24 گھنٹے تک قابو پا لیا جائے گا۔ اس حوالے سے واسا اور متعلقہ حکام کو احکامات کر دیئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خود نگرانی بھی کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1