بھارت میں مسلمانوں سمیت کوئی اقلیت محفوظ نہیں، چودھری الطاف شاہد

بھارت میں مسلمانوں سمیت کوئی اقلیت محفوظ نہیں، چودھری الطاف شاہد

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) اوورسیز ہیومن رائٹس واچ کے مرکزی صدر چودھری محمدالطاف شاہد نے کہا ہے کہ بھارت اورمقبوضہ کشمیر کو مسلمانوں کی مقتل گاہ بنادیاگیا۔شدت پسند نریندرمودی کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد بھار ت کے اندرمختلف واقعات میں مسلمانوں کے قتل عام پریواین ،امریکہ ،برطانیہ اوریورپ کی خاموشی نے انسانیت کاسرشرم سے جھکادیا۔اسلام کے ساتھ تعصب کی بنیادپرمغرب والے مسلمانوں کے انسانی حقوق کااحترام نہیں کرتے ۔بھارت کاوجودانسانیت کیلئے ایک بوجھ ہے،بھارت میں مسلمانوں سمیت کوئی اقلیت محفوظ نہیں۔ بھارتی سیاستدانوں نے الیکشن میں کامیابی کیلئے پاکستان کیخلاف زہراگلنا اورمسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا اپنا حق اورفرض سمجھ لیا ہے۔وہ ایک اجلا س سے خطاب کررہے تھے۔ اجلا س کے دوران بھارت اورمقبوضہ کشمیر میں بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام پرشدیدغم وغصہ کااظہارکرتے ہوئے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کرنے کامطالبہ کیا گیا ۔چودھری محمدالطاف شاہد نے مزید کہا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کاصفایاکرنے کادعویٰ اقوام متحد ہ کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے ۔ بھارت کا بدنام زمانہ وزیراعظم نریندر مودی مسلمانوں کیلئے ایک موذی بیماری بناہوا ہے ۔بھارت کے بیشتر انتہاپسندہندوسیاستدان مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور وہ اپنے سیاسی مفادکیلئے فسادات کوہوادینے میں کوئی کسرنہیں چھوڑتے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاستدان محض دنیا کوگمراہ کرنے کیلئے جمہوریت کاڈھونگ رچاتے ہیں ،حقیقت میں بھارت ایک انتہاپسنداورجنونی ریاست ہے ۔بھارت نے ایٹم بم توبنالیا مگراس کے کروڑوں لوگ آج بھی دورجہالت میں جی رہے ہیں اورانہیں ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام دشمنی کی تعلیم اورترغیب دی جاتی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1