وفاق سے اپنا حق مانگ رہے ہیں ، بھیک نہیں ، وزیر خزانہ سندھ

وفاق سے اپنا حق مانگ رہے ہیں ، بھیک نہیں ، وزیر خزانہ سندھ

کراچی(خصوصی رپورٹ ) وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مالی سال 2016-17کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 225ارب روپے رکھے ہیں ،60ارب روپے کی گرانٹ بلدیات کو دی جائے گی ، تھر میں کول مائننگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے ،2018 سے بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی ،سندھ کو این ایف سی کے 112ارب روپے نہیں ملے ، وفاقی حکومت سے اپنا حق مانگ رہے ہیں ،کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ،وفاقی حکومت بجلی میں سرمایہ کاری میں باتیں تو کرتی ہے لیکن سنجیدہ نہیں ہے جب ہم حکومت میں آئے تو کوئی کام کرنے کو تیار نہیں تھا ، اب صورتحال بہت بہتر ہے ،پولیس کے شہدا کے لواحقین کا معاوضہ بڑھا کر 50لاکھ روپے کر دیا ہے ، کراچی کے 10ارب روپے کے پیکج میں زیادہ تر سڑکوں کیلئے ہیں،سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ غیرترقیاتی اخراجات کوکم سے کم کیاجائے۔وہ اتوار پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم اور امن و امان پر خطیر رقم رکھی گئی ہے، سندھ حکومت نے اچھا عوامی بجٹ دیاہے، 225 ارب روپے ترقیاتی اسکیموں پرخرچ کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ 2015میں سیلاب سے بندوں کونقصان نہیں پہنچا،2010میں بندوں کی نگرانی کیلیے ڈیڑھ ماہ گزارا،محکمہ آب پاشی نے بندوں کی مرمت کا کام کیا ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ نوری آباد پاورپلانٹ سے پیداہونیوالی بجلی کے الیکٹرک کوفراہم کی جائیگی،نوری آبادمیں100میگاواٹ پاورپلانٹ سے بجلی کی فراہمی شروع ہوجائیگی،جھمپیر میں پن بجلی کے منصوبوں سے310میگاواٹ بجلی پیداہورہی ہے،تھر میں 2018 سے بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی، تھر میں کول مائننگ کا کام شروع کردیا ہے،پولیس کے شہداکے لواحقین کامعاوضہ بڑھاکر50 لاکھ روپے کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے 10ارب روپے کے پیکج میں زیادہ تر سڑکوں کے لئے ہیں ،کے فور کے دونوں پیکج کو 2سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے،ایف ڈبلیو او کے فور کے دو نوں پیکج پر کام کر رہی ہے،10ارب روپے کے پیکج پر عملدرآمد سندھ حکومت کالوکل ڈپارٹمنٹ کریگا ،اورنج لائن کے لئے تمام رقم دستیاب ہے،منصوبہ1سال میں مکمل کرناہے،کراچیکیلئے 10 ارب روپے کا پیکج رکھا گیا ہے ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ احسن اقبال نے وعدہ کیاہے کے4 کے لئے مزید پیسوں کی ضرورت پڑی تو دینگے،وفاقی حکومت بجلی میں سرمایہ کاری کی باتیں توکرتی ہے لیکن سنجید ہنہیں، تھرمیں توانائی شعبے میں سرمایہ کاری میں وفاقی حکومت نے کوئی مددنہیں کی،نوری آبادپر100 میگا واٹ کاپاورپلانٹ لگارہے ہیں،تھرکی بجلی پورے پاکستان کے لئے ہے،صرف تھر کے لئے نہیں،جب ہم حکومت میں آئے تو کوئی کام کرنے کوتیارنہیں تھا، اب اس سال سندھ کے اسپتالوں سے ادویات کی کمی یافنڈزکی قلت کی کم شکایات آئیں،سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ غیرترقیاتی اخراجات کوکم سے کم کیاجائے۔

مزید : علاقائی