بھارت کا مون سون کی پیشگی اطلاع کیلئے سپر کمپیوٹر بنانے کا فیصلہ

بھارت کا مون سون کی پیشگی اطلاع کیلئے سپر کمپیوٹر بنانے کا فیصلہ

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی طرح بھارت بھی ایک زرعی ملک ہے ، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ملکوں میں مون سون کے موسم کی اپنی اہمیت ہے۔ اس سے قبل مون سون کی آمد و رفت کا پتا محض اعدادوشمار کے جگاڑ سے ہی لگایا جاتا تھا مگر اب بھارت موسم کا حال جاننے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارت مون سون کی درست پیش گوئی کرنے کے لیے 6کروڑ ڈالر(تقریباً6ارب روپے) کی

لاگت سے ایک سپرکمپیوٹر تیار کرنے جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی امریکہ میں مستعمل موجودہ ٹیکنالوجی کے مشابہہ ہو گی۔ یہ کمپیوٹر سہ رخی ماڈلز تیار کرے گا جن کی مدد سے مون سون کے متعلق پیش گوئی کی جا سکے گی۔ بھارت کے ارتھ سائنس سیکرٹری ایم راجیون کا کہنا تھا کہ ’’اگر سب کچھ بہتر انداز میں ہو گیا تو 2017ء میں ہم اس حرکیاتی ماڈل کو چالو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس کے بعد پرانے اعدادوشمار کے ماڈل کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہم نے عمومی بارش کی پیش گوئی درستگی سے کرنے میں کافی مہارت حاصل کر لی ہے تاہم مون سون کی بارشیں ایک پیچیدہ امر ہے جن کے متعلق صرف ’’بھگوان‘‘ ہی مکمل طور پر جانتا ہے۔ تاحال ہم کلی طور پر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ مون سون کی بارشیں کب ہوں گی۔ اس سپرکمپیوٹر کے آنے سے ہم بہت حد تک مون سون کی بارشوں کی بھی درست پیش گوئی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ بھارت میں 1کروڑ 19لاکھ کسان بارانی علاقوں کے کاشتکار ہے اور مکمل طور پر بارشوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ مون سون کی درست پیش گوئی نہ ہونے کی وجہ سے ان کسانوں کو فصلوں کی کاشت کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب بھی بڑی تباہ کاریوں کا باعث بنتے ہیں۔

مزید : علاقائی