خواتین کے مغربی طرز کے ملبوسات پہننے سے ملک کے دریا خشک ہو رہے ہیں،ایرانی مذہبی سکالر

خواتین کے مغربی طرز کے ملبوسات پہننے سے ملک کے دریا خشک ہو رہے ہیں،ایرانی ...

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں ایک سنیئر مذہبی سکالر نے کہا ہے کہ ’’خواتین کے مغربی طرز کے ملبوسات پہننے سے ملک کے دریا خشک ہو رہے ہیں ۔‘‘برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ فتویٰ ایران کے شہراصفہان کے عالم سید یوسف طباطبائی نژاد نے یہ بات خطبہ جمعہ کے دوران کہی۔اس دوران انہوں نے ایران کی ’’اخلاقی پولیس‘‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مناسب پردہ نہ کرنے والی خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کرے کیونکہ ان کے غیراخلاقی لباس ہمارے ماحول پر برے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے کئی ایسی خواتین کی تصاویر موصول ہوئی ہیں جو مغربی طرز کا لباس پہن کر بتدریج خشک ہو تے دریا زایندہ رود (Zayandeh Rud)کے کنارے اس طرح کھڑی ہیں جیسے یورپ میں کھڑی ہوں۔ ایسی خواتین کے انہی اقدامات کی وجہ سے یہ دریا خشک ہورہا ہے۔یہ تصاویر انٹرنیٹ کے ذریعے شیئر بھی کی گئیں۔ میں نے وزارت نشریات سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسی بداخلاقی کی حوصلہ افزائی کرنے والے نیٹ ورکس کو بند کر دو، اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر آپ اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام تصور کیے جاؤ گے۔ وزارت نشریات ان خواتین کی شناخت کر سکتی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ہم کوئی گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں تو اس کو زبانی برا بھلا کہہ دینا بیکار ہے۔ اس گناہ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پولیس حزب اللہی فورسز کو بھی استعمال کر سکتی ہے۔ ‘‘ واضح رہے کہ سید یوسف طباطبائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی پولیس پہلے ہی مناسب پردہ نہ کرنے والی خواتین اور گاڑیوں میں بلندآواز میں موسیقی چلانے والے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

مزید : علاقائی