طالبان بھی مخالفین کو سزا دینے کیلئے داعش کا نقش قدم پر چل پڑے

طالبان بھی مخالفین کو سزا دینے کیلئے داعش کا نقش قدم پر چل پڑے

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم کی طرف سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے اذیت ناک طریقوں کے متعلق خبریں تو آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ اب افغانستان میں طالبان نے بھی انہی کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں افغانستان کے صوبہ غور میں طالبان نے پہلے فضل احمد نامی ایک مزدور کی آنکھیں نکالیں، پھر اس کی چمڑی اتارڈالی اور پھر اس کو انتہائی بلند چٹان سے نیچے پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ رپورٹ کے مطابق فضل احمد کے ایک دور کے رشتہ دار نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبان کمانڈر کو ہلاک کیا تھا۔ طالبان کے ہاتھ اصل ملزم نہ آیا تو انہوں نے فضل ہی کو اس کے گھر سے اٹھا لیا اور لیجا کر انتہائی سفاکی سے قتل کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق افغان پارلیمنٹ کے رکن رقیہ نائیل کا کہنا تھا کہ ’’جب طالبان نے فضل کی زندہ کھال اتاری تو کھال اتارنے کے بعد بھی وہ درد کی شدت سے چیخ و پکار کر رہا تھا۔ طالبان نے اس کے سینے کی کھال اتارنے کے بعد سینہ چیر دیا تھا جس سے اس کا دل نظر آنے لگا تھا۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید : علاقائی