عید کے بعد میدان لگے گا۔ فیصلہ عوام کریں گے

عید کے بعد میدان لگے گا۔ فیصلہ عوام کریں گے
 عید کے بعد میدان لگے گا۔ فیصلہ عوام کریں گے

  

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میاں نواز شریف کے احتساب کے لئے دس فیصد پاکستانیوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں ایک عرصہ سے مردم شماری نہیں ہوئی۔ اس لئے پاکستان کی کم آبادی کتنی ہے ۔ اس کا صحیح پتہ تو شائد کسی کو بھی نہیں ہے۔ اس لئے آبادی کے حوالہ سے اندازے ہی موجود ہیں۔ اس لئے ان تمام اندازوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی آبادی 18کروڑ سے کم نہیں ہے اور شائد 22 کروڑ سے زیادہ نہیں ہے۔ اس طرح پاکستان کی آبادی18 کروڑ سے 22 کروڑ مان لی جائے تو اس کا 10فیصد ایک کروڑ 80 لاکھ سے دو کروڑ بیس لاکھ کے درمیان بنے گی۔ اس لئے عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دو کروڑ لوگ میاں نواز شریف کے احتساب کے لئے سڑکوں پر لے آئیں گے۔

شائد اسٹبلشمنٹ کو کسی نئے ایڈونچر پر قائل کرنے کے لئے عمران خان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر لے آئیں گے، لیکن اس سے ایک اور بات ظاہر ہے کہ محترم عمران خان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دھرنے میں بھی انہوں نے اپنے دوستوں سے یہی وعدہ کیا تھا کہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد دھرنے میں لے آئیں گے، جس پر کہا جاتا ہے کہ دوستوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچ گئے تو دوست اپنا کام کر دیں گے، لیکن پھر یہ ہوا کہ دوستوں کو گلہ تھا کہ مطلوبہ تعداد میں لوگ نہیں آئے۔ دوست کہتے رہے کہاں ہیں لاکھوں لوگ۔ یہ خالی کرسیاں لاکھوں لوگ کیسے ہو سکتے ہیں اور عمران خان کو گلہ تھا کہ وہ تو اسلام آباد آگئے ۔ لوگ تو کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں، لیکن دوستوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس طرح یہ دھرنا 126 دن چلنے کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا۔

اگر سیاسی تجزیہ نگاروں سے رائے لی جائے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ د رست ہے کہ ابتدائی طور پر دھرنے اور دوستوں نے میاں نواز شریف اور ان کی حکومت کو بہت نقصان پہنچایا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح دھرنا لمبا ہو تا گیا۔ دوست اور دھرنے والے کمزور ہوتے گئے اور پھر میاں نواز شریف اس دھرنے کی وجہ سے سیاسی طور پر مضبوط ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ دھرنے سے عمران خان کو تو کچھ نہیں ملا۔ البتہ دوست کافی فائدہ میں رہے۔ دوستوں کا حکومتی امور میں اثر بڑھ گیا۔ یہ بھی کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ دوستوں کا عمل دخل بہت بڑھ گیا۔ ہر بڑے معاملہ میں دوست اہم ہو گئے۔ لیکن عمران خان غیر اہم سے غیر اہم ہوتے گئے۔ استعفیٰ واپس لینے پر شرم کرو حیا کرو تک کے طعنے سننے پڑے اور بھیگی بلی کی طرح ایوانوں میں واپسی ہوئی ۔

لیکن اب پھر عمران خان ایک نئی مہم جوئی کے لئے ماحول بنا رہے ہیں۔ ان کے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری بھی واپس آرہے ہیں۔ ویسے تو ڈاکٹر صاحب کا آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ رمضان ان کی آمدنی کا موسم ہے۔ وہ ایک شہر اعتکاف بساتے ہیں۔ اپنے مریدین سے سارے سال کا چندہ اکٹھا کرتے ہیں۔ اس لئے جہاں وہ پورا سال مُلک سے باہر رہتے ہیں۔ وہاں رمضان کے وسط میں مُلک میں واپس آجاتے ہیں تاکہ اپنا شہر اعتکاف بسا سکیں۔ اِس لئے وہ آئے تو شیڈول کے مطابق ہی رہے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے معمول کے شیڈول کو لگتا ہے کہ دوستوں کے اصرار پر لاہور میں مال روڈ پر دھرنے کا تڑکہ لگا دیا ہے، تا کہ ماحول کو گرما یا جا سکے۔

مستقبل کا حال جاننے والے رحمن ملک بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ٹی او آرز کمیٹی میں ڈیڈلاک رمضان میں ختم نہ ہوا تو عید کے بعد ماحول گرم ہو جائے گا، وہ کہہ رہے ہیں کہ عید کے بعد بجلی بھی چمکے گی اور بادل بھی برسیں گے۔ عمران خان بھی کروڑوں لوگ سڑکوں پر لانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دھرنے کے سارے کردار تیزی سے متحرک ہو رہے ہیں، لیکن گیم وہیں پھنسی ہوئی ہے کہ پیپلزپارٹی کہاں کھڑی ہے۔ رحمن ملک کے اعلان سے تو لگ رہا ہے کہ اس بار میاں نواز شریف کو پیپلزپارٹی کا تعاون حاصل نہیں ہوگا۔

اگر پیپلزپارٹی بھی سڑکوں پر ہی آگئی۔ تو شائد اس کا احتجاجی سیاست پر تو کوئی بڑا ثر نہیں ہو گا۔ ایک تو شائد بلاول پنجاب میں نہیں آئیں گے، کیونکہ انہیں خطرہ ہو گا کہ اگر پنجاب میں ان کے جلسہ تحریک انصاف سے چھوٹے رہ گئے تو یہ ان کے لئے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو گا۔ اِس لئے بلاول خیبر پختونخوا اور سندھ میں ہی جلسے کریں گے، لیکن شائد عمران خان کی طرح اسلام آباد پر چڑھائی اور کسی بڑے ایڈونچر کا پیپلزپارٹی حصہ نہیں ہوگی۔ پیپلزپارٹی اگر سڑکوں پر آئے گی تو بھی عمران خان سے فاصلے پر ہی ہو گی۔

بہرحال ماحول ایسا بن رہا ہے کہ حکومت کو دھرنے جیسے موسم کا دوبارہ سامنا ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف بھی صحت مند ہو کر وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ اور اپوزیشن بھی تازہ ہو چکی ہو گی۔ اس لئے میچ دلچسپ ہو گا۔ کیا میاں نواز شریف اپوزیشن کا سڑکوں پر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ خبر تو یہی ہے کہ اس بار میاں نواز شریف بھی سڑکوں پر ہی میدان لگائیں گے۔ جلسے کے جواب میں جلسہ ہو گا۔ دھرنے کے جواب میں دھرنا ہو گا۔ اِس لئے عید کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا سیاسی میدان سجنے جا رہا ہے، جس میں سیاست دان اب ایوانوں میں نہیں سڑکوں پر فیصلے کرنے کے موڈ میں ہیں۔ اگر عمران خان نے جو دعویٰ کیا ہے۔ اس کا دس فیصد بھی لے آئے تو جیت جائیں گے، لیکن اگر لوگ نہ آئے تو نتیجہ دھرنا جیسا ہی ہوگا۔ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جدھر جائیں گے وہی جیتے گا۔

مزید : کالم