پنجاب کا بجٹ بھی وفاقی بجٹ کی طرح عوام دوست ہو گا

پنجاب کا بجٹ بھی وفاقی بجٹ کی طرح عوام دوست ہو گا

  



اسد اقبال

وفاقی بجٹ اور صوبائی بجٹ دونوں میں توانائی کے شعبے کو توجہ کا محور رکھا گیا ہے جو بہت خوش آئند بات ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں پنجاب کے عوام بجلی و گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا نشانہ بنتے رہے ہیں لیکن توقع ہے کہ اب صورتحال مختلف ہوگی لیکن کاروباری برادری یہ ہرگزنہیں چاہتی کہ پنجاب کو لوڈشیڈنگ سے چھٹکارا مل جائے اور سندھ یا پھر کسی اور صوبے کے عوام پندرہ پندرہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں۔ ہم سب بھائی ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے لہذا وفاقی حکومت کو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جڑ سے اکھاڑنے پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ ملک کے کسی ایک حصے کا بوجھ اٹھاکردوسرے حصے پر ڈال دیا جائے جیسا کہ پچھلی حکومت کا وطیرہ رہا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے بحران کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ بھاری سرکلر ڈیبٹ بھی ہے اور اگر اعلان کے مطابق حکومت ریکارڈ وقت میں اس کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ تعلیم کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس مرتبہ وفاقی حکومت شعبہ تعلیم کو اہمیت دی ہے۔ وفاقی بجٹ میں ہائر ایجوکیشن اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے بھاری رقم رکھی ہے جس سے شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا ۔ حکومت نے جن تعلیمی اصلاحات کا اعلان کیا ہے اُن کی بدولت صنعتی شعبے کو ہنرمند افرادی قوت میسر آئے گی ۔ میاں محمد نواز شریف کو ہمیشہ ہی سے یہ اچھی طرح اندازہ رہا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں انفراسٹرکچر کس قدر اہمیت رکھتا ہے چنانچہ انہوں نے اپنے گذشتہ ادوار حکومت میں انفراسٹرکچر کی بہتری پر خاص توجہ دی۔ وفاقی بجٹ میں قومی شاہراہوں کی تعمیر کے لیے بھاری رقم روپے رکھے گئے ہیں جو بہت اچھا قدم ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں صنعتی زون قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے صنعت سازی کو فروغ حاصل ہوگا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے اور آئندہ تین سال میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بلند ترین سطح تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے جس سے وفاقی حکومت کی معیشت کو مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضافے جبکہ پنجاب حکومت نے امراء سے ٹیکس وصول کرنے کا اعلان کیا ہے جو دیر آید درست آید کے مصداق بہت اچھے اقدامات ہیں کیونکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت اور قابل ٹیکس آمدن رکھنے والوں سے ٹیکس وصولی بہت ضروری تھی تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر سے بوجھ کم ہو اور حکومتی محاصل بھی بڑھیں۔ نوجوانوں کے لیے خود انحصاری سکیم کا اجراء اور اپنے کاروباری شروع کرنے کے لیے سود سے پاک قرضے دینے سے نوجوان اپنے کاروبار کرنے کی طرف راغب ہونگے جس سے صوبہ پنجاب کی معیشت کو تقویت ملے گی۔ ماضی قریب میں دیہی علاقے بُری طرح نظر انداز ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک تو یہاں پسماندگی بڑھی اور دوسرا لوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہوا لیکن حالیہ پنجاب بجٹ میں دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقی کے لیے خطیر رقم رکھی گئی ہے ۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور کم از کم تنخواہ کی حد بڑھانا بھی وفاقی حکومت کے اچھے اقدامات ہیں جن سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومت نے چھوٹے کاشتکاروں کو بائیوگیس اور سولر ٹیوب ویل دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت بھی توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن بہتر یہ ہوتا کہ وفاقی بجٹ میں بالخصوص سولر توانائی کے حصول کے لیے استعمال ہونے والی مشینری پر ڈیوٹی بالکل صفر کردی جاتی ۔ تاجر یہ توقع کررہے تھے کہ ودہولڈنگ ٹیکس پر بھی حکومت ان کی آواز سنے گی لیکن یہ امید سچ ثابت نہیں ہوسکی۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی ) ریجنل چےئرمین میاں رحمان عزیز نے کہاکہ موجودہ بجٹ گزشتہ سالوں کی نسبت بہتر ،واضع اورحوصلہ افزاء ہے۔تاہم چند شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔حکومت ملک میں امن کے قیام کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہے ۔زراعت پاکستانی معشیت کا اہم حصہ ہے۔زرعی شعبے میں اقتصادی ہدف میں کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔پانچ برامدی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ جن میں ،ٹیکسٹائل،چمڑا،قالین،جراحی آ لات اور کھیلوں کا سامان شامل ہے قابل تعریف ہے۔زراعتی شعبے کو مزید فعال بنانے کے لئے ،کیڑے مار ادوایات اور کھادوں پر سیلز ٹیکس میں کمی بھی اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا حکومت نے ایف پی سی سی آئی کی پانچ برامدی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کی تجویز کو نہ صرف عملی شکل دی ہے بلکہ ایف پی سی سی آئی کی سفارشات کو ہمیشہ سراہا ہے۔ ایف پی سی سی آئی حکومت اور کاروباری طبقے میں مثبت روابط قائم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشاں ہے۔ موجودہ بجٹ میں مقامی صنعتکاروں کی جدید خطوط پر استواری کے لئے مزید کاوشوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان انڈسڑیل اینڈ ٹریڈز ایسوسی ا یشن فرنٹ (پیاف) کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ حکو مت نے مشکل تر ین حالات میں بہتر اور کاروبار دوست بجٹ پیش کیاہے جس میں انڈسٹری اور زراعت کو خصو صی ریلیف دیتے ہوئے ٹیکسو ں کی شر ح میں کمی کی گئی ۔انھوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں چھوٹے تاجروں کے لیے کچھ ریلیف نہیں دیا گیا جس پر تو جہ دینے کی ضرورت تھی تاہم بجٹ میں حکو مت نے بہت سارے سیکٹرز کو ریلیف دیاِ گیا جن میں الیکٹرک سٹی ، زراعت اور پانچ انڈسٹریوں کو صفر فیصد ڈیو ٹی دی گئی ۔انھوں نے کہا کہ امید یہ تھی کہ حکو مت ٹیکس نظام کو آسان بناتے ہوئے نئے ٹیکس پیئر کی تلاش کے لیے اقدامات اٹھائے گی تاہم ایسا کو ئی منصو بہ بجٹ میں پیش نہیں کیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایکسپورٹ 25بلین سے کم ہو کر 18بلین ڈالر پر آن پہنچی ہے۔بجٹ میں ودہو لڈنگ ٹیکس میں ریلیف اور حلال پراڈکٹ سمیت فو ڈ انڈسٹری پر تو جہ نہ دینا قابل تشو یش ہے جبکہ برآمدات میں اضافے کے لیے کچھ اقدامات نہ اٹھائے گئے تاہم زراعت سمیت کسٹم سیکٹر کے ٹیکسوں کی شر ح میں کمی بہتر کاوش ہے ۔عرفان اقبال شیخ نے وفاقی بجٹ میں کالاباغ ڈیم کا ذکر بالکل نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی ہوئی ہے، یہ قومی مفادات کا حامل اہم منصوبہ ہے لہذا اسے قومی اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ناصر سعید نے کہا کہ تاجر برادری بینکوں کے ذریعے لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس، ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شرح میں کمی اور ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات میں کمی کے حوالے سے بڑے بریک تھرو کی توقع کررہی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا، اراکین اسمبلی بجٹ پر بحث کے دوران ان عوامل کو خاص طور پر زیر بحث لائیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ بڑے سیکٹرز کو زیرو ریٹ قرار دینا اچھا قدم ہے لیکن ضروری ہے کہ ایکسپورٹ سے وابستہ تمام سیکٹرز کو زیرو ریٹ قرار دے دیا جائے کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے برآمدات کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ انجینئرنگ، لائیوسٹاک اور حلال فوڈ سیکٹرز کو بالخصوص زیر ریٹڈ قرار دیا جائے کیونکہ یہ شعبے برآمدات کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ حلا ل فوڈ سیکٹر کو زیر رویٹڈ قرار دینے سے پاکستان حلال فوڈ کی اربوں ڈالر کی عالمی تجارت میں اپنا خاطر خواہ حصہ حاصل کرسکے گا۔انھوں نے کہا کہ 31اگست تک ریفنڈ کلیمز کی ادائیگی اگرچہ ایک مستحسن قدم ہے لیکن پارلیمنٹرینز یہ بات یقینی بنائیں کہ وقت مقررہ کے اندر ریفنڈ کلیمز ادا کردئیے جائیں اور مقررہ مدت سے مزید التوا پذیر نہ ہوپائیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے فلیٹ ریٹ کی تجویز پر غور کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر نے بجلی کے کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے بلوں پر ودہولڈنگ دس فیصد سے بڑھاکر پندرہ فیصد کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے پر غور کرنے پر زور دیا۔

ایف پی سی سی آئی ریجنل سٹینڈنگ کمیٹی آن لاء اینڈ آرڈر و سینئر وائس پر یذیڈنٹ پاکستان مسلم لیگ ن ٹر یڈ ونگ پنجا ب خواجہ خاور رشید نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ بھی وفاقی بجٹ کی طرح عوام دوست ہوگا ، وفاقی حکومت نے کھاد او ریوریا کی قیمتوں ، ٹیوب ویلوں کے لئے سستی بجلی کی فراہمی اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کمی نے ثابت کیاہے کہ مسلم لیگ( ن) کی حکومت کسان او رعوام دوست ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسانو ں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی سے زرعی میدان میں نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہاکہ بجٹ کے ثمرات جلد سامنے �آئیں گے اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی سے پورے ملک کا فائدہ ہوگا۔ زراعت ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے جسے حکومت نے تاریخی سہارا دیاہے ۔ ہمارا کسان انتہائی محنتی او رجفا کش ہے ، قدرت نے ہمیں بہترین موسم اور زرخیز زمینوں کا تحفہ بھی دے رکھاہے ۔ایسے میں کسان دوست حکومتی پالیسیوں کے ثمرات جلد سامنے آئیں گے او رملک میں ترقی وخوشحالی کی نئی صبح طلوع ہوگی ۔ بجٹ میں حکو مت کی جانب سے ا علان کردہ تمام وعدوں پرمن و عن عمل کیا جائے گااو رصنعتی و زرعی میدان میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

مزید : ایڈیشن 2