قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہوئے؟

قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہوئے؟
قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہوئے؟

  


ذکرِ خیر مقصود ہے اُن مرحومین کا، جو گزشتہ پانچ ماہ کے دَوران یعنی کم جنوری2016ء تا31 مئی2016ء کے اندر اندر راہئ ملکِ عدم ہو گئے۔ اُن کا متبادل ناممکن ہے، اتنے نابغۂ عصر اِس جہانیِ فانی میں پھر کہاں؟۔ اگرچہ ناصر کاظمی مرحوم نے کہہ رکھا ہے:

دائم آباد رہے گی دُنیا!

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

مگر ہم سا بھی کیا ہو گا؟ ایک ایک کا نعم البدل برسوں میں بھی ممکن نہیں۔ ان جُدا ہو جانے والوں کا تذکرہ آج کے ایک اَور کالم کا اس لئے متقاضی تھا کہ کچھ پر لکھا گیا، کچھ پر بالکل نہیں لکھا گیا، جن پر لکھا گیا اُن پر بھی کیا لکھا گیا؟۔ حق تو یہ ہے کہ حق اَدا نہ ہُوا۔ سو خامہ ایک بار پھر خُوں چکاں ہے:

مرحومین پر گزشتہ کالم میں ہم نے شعیب جاذب کے تذکرے میں زیادہ تر معلومات اسد سلیم شیخ] پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی بھٹیاں[ سے حاصل کی تھیں۔ اب معلومات میں مزید اضافہ اور بعض تسامحات کی دُرستی حضرت فاتح واسطی نے فون پر کروائی کہ وہ فاتحِ لّیہ بھی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ شعیب جاذب، 3اگست 1940ء کو لّیہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام مُلازم حسین تھا چنانچہ شروع شروع میں ملازم حسین اختر، پھر نسیم لّیہ کی شاگردی اختیار کر کے ماجد نسیمی رہے۔ اس کے بعد ملازم حسین محسن ہو گئے اور پھر حسن جعفری بھی خود کو لکھتے رہے۔ آخرِ کار شعیب جاذب پر قرار آیا۔ اُن کی پہلی شادی اُس وقت ہوگئی تھی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ پہلی بیوی سے اُن کی نصف درجن اولاد تھی، چھ بچوں کی ماں ہوتے ہوئے بھی پہلی بیوی نے خود کشی کر لی تھی۔ دوسری اور تیسری بیوی ماشاء اللہ حیات ہے۔ کُل اولاد کی تعداد تینوں بیویوں سے28 نہیں، 29تھی۔ پہلی بیوی سے6، دوسری سے10اور تیسری سے 13۔ یُوں کُل ملا کر29 ہوئے، اُن میں سے 22 حیات ہیں۔ شعیب جاذب محکمۂ انہار میں پٹواری تھے۔

کثیر العیال تھے مگر سب کی کفالت 80برس کی عمر تک کرتے ر ہے۔1970ء تک تخلص بدلنے کا سلسلہ جاری رہا۔1970ء سے تادمِ مرگ، یعنی 9اپریل 2016ء تک شعیب جاذب ہی کے ادبی قلمی نام سے بہت کچھ لکھا،۔ کئی کتابیں مطبوعہ صورت میں اثاثہ ادب کے طور پر کمیاب ہیں۔ شعیب جاذب لّیہ میں پیدا ہوئے تھے اور اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے، پھرتے پھراتے لّیہ ہی کی زمین میں جذب ہو گئے۔!

ڈاکٹر انور سدید کا پورا نام انوار الدین احمد خاں تھا۔ انوار الدین احمد خاں کے نام سے بعض قدیم ادبی جریدوں میں مجھے ابتدائی طور پر اُن کے افسانے پڑھنے کا اتفاق ہُوا۔ سدید تخلص اختیار کر کے انور سدید کے مختصر ادبی نام سے شاعری بھی کی، اُردو ادب میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد نام کے شروع میں ڈاکٹر کا لاحقہ لگا تو ڈاکٹر انور سدید کے نام سے ہر میدانِ ادب میں بگٹٹ دوڑے۔ اصل شہرت نقاد اور محقق کے طور پر رہی، نقاد کے طور پر خاصے متنازعہ رہے۔ ’’سرگودھا سکول آف تھاٹ‘‘ کے سرکردہ رُکن تھے اور چَومُکھی لڑنے میں ماہر بھی،۔ احمد ندیم قاسمی اور اُن کے ’’فنون‘‘ گروپ یا ’’لاہور سکول آف تھاٹ‘‘ سے مرتے دَم تک نَبرد آزما رہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر کی مشہور زمانہ تنقیدی کتاب’’اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ کی طرز پر ڈاکٹر انور سدید نے بھی ’’اُردو ادب کی مختصر تاریخ‘‘ کے نام سے ایک کتاب چھپوائی اور مخالف گروپ کے ذکر میں خوب خوب ڈنڈی ماری۔ مجھے ’’اُردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے سلسلے میں ’’ادبِ لطیف‘‘ کا خاطر خواہ تذکرہ تقریباً نہ کرنے اور میرا بھی صرف بطور مُدیر ’’ ادبِ لطیف‘‘ ایک جگہ برسبیلِ تذکرہ محض نام درج کرنے پر اعتراض تھا، گلہ تھا، شکوہ تھا، قلق تھا۔ اِس کا اظہار ایک بار کیا تو طَرح دے گئے۔ اب اُن کے انتقال کے بعد اظہر جاوید کے ’’تخلیق‘‘ لاہور کے پرانے شماروں کی ورق گردانی کر رہا تھا تو اکتوبر 2003ء کے شمارے میں ’’تخلیق‘‘۔’’2002ء میں نظم‘‘ کے عنوان سے اُن کا جائزہ پڑھنے کا اتفاق ہُوا۔ اپنا ذکرِ خیر واقعی ذکرِ خیر کی صورت میں پڑھ کر حیرت ہوئی اور خوشی بھی۔ مَیں اس تحریر کو قارئین کو بھی قندِ مکرر کے طور پر پڑھوا رہا ہوں، اور ڈاکٹر انور سدید کی رُوح سے معذرت کر رہا ہوں کیونکہ اب کوئی گِلہ شکوہ نہیں۔ ڈاکٹر انور سدید نے لکھا: ’’ناصر زیدی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور دو مصرعوں میں پوری نظم کا تاثر جذب کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں کلاسکیّت اور رُومانویت کا جمال نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ ’’تخلیق‘‘ 2002ء میں انہوں نے ’’تنہا اداس لڑکی‘‘ ’’میڈم‘‘ ’’وصال لمحوں کا تاثر‘‘اور ’’لانگ ڈرائیو پر‘‘ جیسی نظمیں لکھیں تو رُومانویت کو قائم رکھا، لیکن ان کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ذاتی تاثرکو نظم میں پورا افسانہ بنانے کی کاوش بھی کی ہے۔ ساکت تصویر میں بھی گویائی محسوس کی جا سکتی ہے۔’’ تین مصرعوں کی نظمیں‘‘ کی صُورت میں ناصر زیدی کا انداز محسن بھوپالی کے ’’نظمانے‘‘ سے مختلف ہے۔ مجموعی تاثر کو طنز سے کٹیلا بنانے کی شعوری کاوش نہیں کی گئی ہے‘‘۔۔۔!

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے جائزے میں ڈاکٹر انور سدید نے میری جس ایک پسندیدہ انتہائی مختصر نظم ’’تنہا اداس لڑکی‘‘ کا حوالہ دیا ہے، وہ خوش ذوق قارئین کے لئے درج کر دوں تاکہ ڈاکٹر انور سدید کی پسند پر اُن کی مہرِ تصدیق بھی ثبت ہو سکے نظم ہے:

تنہا اُداس لڑکی

بند کمرے میں سانولی لڑکی

اپنی تنہائیاں سمیٹے ہوئے

سوچ کے دائروں میں گُم صُم ہے!

انڈیا کے شعراء و ادبا پر الگ سے کالم کی ضرورت ہے،جو انشاء اللہ پوری ہو جائے گی۔ سر دست پاکستان میں کچھ اور رخصت ہو جانے والوں کے نام گِنوا دوں۔۔۔ غلام مصطفےٰ بسمل (گوجرانوالہ)۔ سعید سلیمی (لاہور) محمد خان فانی(سیالکوٹ) قمر صحرائی (سیالکوٹ) ۔ صحافی اطہر عارف (لاہور) صحافی پرویز حمید (لاہور) شاعر وادیب صابر حسین امداد جو پشاور میں قتل کر دیئے گئے۔ حسین شاہد جو ’’الحمراء‘‘ لاہور میں مستقل متنازعہ مضامین لکھتے رہے۔ آخری وقت میں ڈاکٹر انور سدید کو مطعون کیا کہ وہ ’’یادِ رفتگاں‘‘ کے حوالے سے مرحومین پر کیوں لکھتے رہتے ہیں سستی شہرت کے لئے؟ ۔۔۔ بشیر حسین جعفری(آزاد کشمیر) بھی چلے گئے انہوں نے دو جِلدوں میں اپنی ضخیم سرگزشت ِ لکھی تھی جس کا ایک دیباچہ نگار مَیں بھی ہوں۔

مزید : کالم