نریندر مودی کی گرمجوشی

نریندر مودی کی گرمجوشی
نریندر مودی کی گرمجوشی

  



بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔امریکی صدر بارک اوبامہ ان کے ساتھ غیر معمولی پیار و محبت کا اظہار کر تے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تصویر میں مودی اوبامہ سے ہاتھ ملا رہے ہیں تو دوسری میں انہوں نے اوبامہ کو ’’جٹ جپھا‘‘ ڈال رکھا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں جناب نریندر مودی کے مضحکہ خیز مصافحوں اور بغل گیر ہونے کی حرکات پر اظہار خیال کیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنے دور اقتدار میں متعدد بیرونی دورے کئے ہیں۔ امریکہ کی ان کی یہ دوسری یاترا ہے اور بھارتی ذرائع ابلاغ اسے کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ بھارت میں 6ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرے گا اور اس کے علاوہ وہ اس کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کی بھی حمایت کرے گا۔ امریکہ کا دورہ مودی کتنا کامیاب ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ تاہم بھارت میں ایسی لابی بھی موجود ہے جو بھارت کو امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں احتیاط کا مشورہ دیتی ہے۔ کیونکہ امریکہ اپنی دشمنی میں کسی کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکا جتنا اس کی دوستی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ کیوبا کے صدر فیڈل کاستر و امریکہ کی کھل کر مخالفت کرتے رہے۔ سی آئی اے نے انہیں قتل کرنے کے لیے متعدد منصوبے بھی بنائے مگر فیڈل کاسترو کی بیان بازی جاری رہی اور نہ صرف ان کا اقتدار قائم رہا بلکہ وہ زندہ بھی رہے۔ لیبیا کے صدر قذافی جب تک امریکہ کے ناپسندیدہ رہے ان کا اقتدار سلامت رہا مگر جب انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں شروع کیں ۔ اس کے ساتھ ہی ان کے زوال کا آغاز ہو گیا اور پھر نہ صرف ان کا اقتدار ختم ہوا بلکہ وہ عبرتناک انجام سے بھی دوچار ہوئے۔ امریکہ سوویت یونین توڑنے کا کریڈٹ لیتا ہے۔ مگر اس میں پاکستان نے غیر معمولی کردار ادا کیا تھا مگر جیسے ہی روسی فوجوں نے کابل کو چھوڑا۔۔۔ امریکی بدل گئے اور پاکستان اور افغانستان کو مسائل کی دلدل میں چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔۔۔

اب بھارتی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے جشن منا رہے ہیں۔مودی کے دورے کے دوران ان کی سفارتی کامیابیاں زیر بحث آئیں ۔مگر عالمی میڈیا ان کے بیانات سے زیادہ ان کی حرکات پر توجہ دیتا رہا۔حال ہی میں برطانیہ کے پرنس ولیم نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ مودی ان سے ملتے ہوئے کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے پرنس ولیم کا ہاتھ جوش جذبات میں اتنا زیادہ دبایا کہ اس پر باقاعدہ نشانات بن گئے۔عالمی میڈیا ان نشانات کودکھا کر مودی کا تمسخر اڑاتا رہا۔ اس مصافحے کے دوران پرنس ولیم نے اپنی چیخ کو کیسے روکا اس کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے تاہم سی این این کی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہوئی جس میں مودی پرنس ولیم سے ہاتھ ملاتے ہیں اور ان کے چہرے پر ناگواری بلکہ اذیت کے آثار نظر آتے ہیں۔مودی مصافحے سے ہی اپنی گرمجوشی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات وہ اتنے زور سے دوسرے لیڈر کو ملتے ہیں کہ پنجابی فلم کے گانے کے یہ بول یاد آ جاتے ہیں ’’آسینے نال لگ جا ٹھاہ کرکے‘‘ سینے سے ٹھاہ کر کے وہ جاپانی وزیراعظم شینزوایبے کے بھی لگے تھے۔ اسی طرح انہوں نے آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایٹ کو تو کچھ زیادہ ہی زور سے سینے سے لگایا تھا۔ جنوری میں جب فرانسیسی صدر فرانکوئس آلاندے بھارت آئے تو نریندر مودی نے زور دار جپھے ڈال کر انہیں باقاعدہ نروس کر دیا۔۔۔ اور میڈیا نے نشاندہی کی کہ کس طرح فرانسیسی صدر بھارت وزیراعظم کی ’’جارحانہ گرمجوشی‘‘ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس دوران مودی کے ہاتھوں نے کچھ ایسی حرکات بھی کیں جنہیں قابل اعتراض قرار دیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ سال نریندر مودی جرمنی کے دورے پر گئے۔ انہوں نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انجیلا مرکل کو غالباً نریندر مودی کے مضحکہ خیز پرجوش مصافحوں اور جپھوں کا علم تھا۔ پریس کانفرنس کے بعد جب جرمن چانسلر مودی کی طرف بڑھیں تو مودی نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا مگر انجیلا مرکل کسی قسم کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ وہ مودی کے پھیلائے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گئیں۔ مودی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے پرجوش ہاتھ کو اس طرح نظر انداز کر دیا جائے گا۔ فوٹیج میں ان کے چہرے پر خفت اور خجالت کے تاثرات نظر آ رہے تھے جبکہ ان کے پاس سے گزرتی ہوئی انجیلا مرکل انہیں باقاعدہ نظر انداز کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ انجیلا کے چہرے کو دیکھ کر ہمیں ساغر صدیقی یاد آئے جنہوں نے کسی سے کہا کہ آج میں نے غزل سنائی تو دو لڑکیاں بے ہوش ہو گئیں۔ اس پر ایک ہمدرد دیرینہ نے انکشاف کیا کہ ساغر صاحب وہ آپ کی غزل کی وجہ سے بے ہوش نہیں ہوئیں بلکہ اس دوران آپ نے جب بازو اٹھایا ہوگا تو آپ کی بغل سے آنے والی بدبو سے بے ہوش ہوئی ہوں گی۔ انجیلا مرکل نے ہاتھ پرنشان ڈلوانے یا بے ہوش ہونے کی بجائے مودی کو نظر انداز کر دیا۔ میڈیا میں اس پر بے پناہ تبصرے ہوئے۔۔ جرمن چانسلر کو اس کا اندازہ تھا مگر اس نے سفارتی آداب کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو بچا لیا۔

مودی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے آپ سے بہت محبت ہے۔ انہیں اپنی سلفیاں بنانے کا بہت شوق ہے اور وہ اکثر پروٹوکول کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے سلفیاں بناتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی تصاویر کے متعلق بھی بہت حساس ہیں۔ دو سال قبل جب اوبامہ نے بھارت کا دورہ کیا تو مودی نے ایک ایسا سوٹ پہنا ہوا تھا جس پر ان کا نام ہزار مرتبہ لکھا ہوا تھا۔ یہ سوٹ پہن کر انہوں نے اوبامہ کے ساتھ متعدد تصاویر بنوائی تھیں۔

تصاویر بنانے کے شوق میں مودی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ 2015ء میں فیس بک کے مالک مارک ذکزبرگ بھارت آئے۔ ایک تقریب میں مودی نے معزز مہمان کو تقریباً کھینچ کر ایک طرف کر دیا تاکہ تصویر اچھی بن جائے۔ مودی کی یہ حرکت خاصی نامناسب قرار دی گئی اور میڈیا نے اسے خاصا اچھالا۔

مودی کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد رہی ہے مگر اب صدر اوبامہ انہیں ’’جان جاناں‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے ناز نخرے اٹھائے جا رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ امریکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بھارت نے 1962ء میں چین کے ساتھ جنگ کی جرات کی تھی مگر اسے منہ کی کھانا پڑی تھی۔ گوادر کی بندر گاہ بہت سے ممالک کو ناگوار گزر رہی ہے اور اس کے خلاف سازشیں شروع ہو چکی ہیں۔ بھارت ان سازشوں میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ نریندر مودی بھارت کو بہت سے عالمی مسائل کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ 1960ء کے عشرے میں امریکہ نے پاکستان کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔۔ اور پاکستانی خارجہ پالیسی نے اگر کوئی ایک دانشمندانہ کام کیاہے تو وہ یہ تھا کہ اس نے چین کے خلاف استعمال ہونے سے انکار کر دیا تھا بلکہ اس نے امریکہ کو چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا مشورہ دیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر آئے اور خفیہ طور پر وہ چین چلے گئے۔ اس کے بعد امریکی صدر رچرڈ نکسن نے چین کا دورہ کیا جسے نکسن نے خود تاریخ ساز کہا تھا۔ روسیوں کے نزدیک پاکستان نے یہ ایک بڑی غلطی کی تھی اور انہوں نے اس کی پاکستان کو سزا دینے کی بھی کوشش کی۔ آج دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ چین ایک سپر پاور کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ وہ امریکہ سے زیادہ دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم عالمی سیاست میں بھی وزیراعظم بھارت کی بجائے وزیراعلی گجرات کا کردار ادا کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی عالمی لیڈروں سے مصافحے کرکے اور انہیں زور دار طریقے سے گلے لگا کر حیران اور پریشان کرتے رہے ہیں مگر ان کا یہ غیر سنجیدہ رویہ بھارت کے امیج کو خراب کر رہا ہے۔ مودی کے ایک سوانح نگار نے ان کی ایسی حرکات کے متعلق بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’’درحقیقت وہ دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ دوستی میں برابری کے قائل ہیں اور بہت پرجوش دوست ہیں۔‘‘ مگر مودی کو نجانے کوئی یہ کیوں نہیں بتا رہا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں اگر لڑکا سر عام کسی لڑکی کو گلے لگا لے تو اسے قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر لڑکا لڑکے کے ساتھ گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کر رہا ہو یا اسے زوردار طریقے سے گلے سے لگا رہا ہو تو یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان کے آپس میں قابل اعتراض تعلقات ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور یورپ کے بہت سے ممالک میں ہم جنس شادیوں کی اجازت ہے مگر عوامی سطح پر اسے کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ نیویارک میں ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ ان کا ایک پاکستانی دوست ان سے ملنے کے لیے ان کے دفتر میں آیا۔ ان کی میز ایک بڑے ہال میں تھی جس میں دوسرے امریکی لڑکے اور لڑکیاں بھی کام کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دوست کو پرجوش انداز میں اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر زور سے کہا۔۔۔ ’’پلیز بغلگیر مت ہونا۔ سب لوگ مجھ پر شک کرنا شروع کر دیں گے‘‘۔۔ فرینک پنجابی دوست نے کہا ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر یہ لوگ ہمارے متعلق مشکوک ہوتے ہیں تو ہونے دو‘‘۔۔۔ اس نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ’’تم نے پاکستان چلے جانا ہے اور ان لوگوں نے میرے اوپر لائن مارنی شروع کر دینی ہے۔۔۔‘‘ جناب نریندر مودی کو شاید اس ثقافتی مسئلے کا علم نہیں ہے۔ وہ زوردار مصافحہ اور سرگرم جپھوں کے بعد مغرب سے واپس آ جاتے ہیں مگر مغربی لیڈروں کو شبہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے متعلق چہ میگوئیاں نہ شروع ہو جائیں۔ امریکی اور یورپی بہت آزاد خیال ہیں مگر ان کی کچھ روایات ہیں مثلاً امریکہ کے صدر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے ایک تو طویل القامت ہونا چاہیے اور دوسرا گنجا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہم جنس پرستوں کے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے مگر کسی بھی اہم انتخابات میں اگر کسی امیدوار کے ہم جنس پرست ہونے کا شبہ ہو جائے تو اس کی کامیابی مشکوک ہو جاتی ہے۔ نریندر مودی کو غالباً اندازہ نہیں ہے کہ ان کی گرمجوشی مغربی سیاستدانوں کے لیے کیسے کیسے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ہمارا خیال ہے کہ مغرب میں اب بہت سے تھنک ٹینک اس پر کام کر رہے ہوں گے کہ بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرتے ہوئے اپنے لیڈروں کو مودی کے پرجوش مصافحوں اور خطرناک جپھوں سے بچنے کے لئے کیا مشورے دیئے جا سکتے ہیں؟

مزید : کالم