شہید اہلکاروں کے اہلخانہ کیلئے معاوضہ 20 لاکھ سے بڑھا کر50 لاکھ مقرر

شہید اہلکاروں کے اہلخانہ کیلئے معاوضہ 20 لاکھ سے بڑھا کر50 لاکھ مقرر

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ پولیس کا بجٹ 63.3 ارب روپے سے بڑھا کر73ارب 98کروڑ 41 لاکھ 71 ہزار 913 روپے کردیا گیا، پولیس ٹریننگ کے لیے تقریاب 30کروڑ روپے کے اضافے کے ساتھ 1ارب 80 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔بجٹ میں دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے 1ارب 37 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے ،شہید پولیس اہلکاروں کے لیے معاوضہ 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر50 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں پولیس کے لیے ٹرانسپورٹ، بکتر بند گاڑیوں ،موبائلز کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر5.2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے ڈھائی ارب روپے گاڑیوں کی خریداری 65 کروڑ روپے مشینری کی خریداری اور2 ارب روپے کی رقم اسلحہ اور ایمونیشن کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے۔بجٹ میں سندھ پولیس کے نئے اخراجات کے لیے 8.9 ارب روپے مختص کے گئے ہیں جبکہ محکمہ داخلہ کے سالانہ ترقیاتی منصوبے کے لئے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سندھ پولیس کا بجٹ 63.3 ارب روپے سے بڑھا کر73ارب 98کروڑ 41لاکھ 71ہزار 913روپے کردیا گیا۔ پولیس ٹریننگ کے لیے تقریبا 30کروڑ روپے کے اضافے کے ساتھ1ارب 80کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ بجٹ میں دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے 1ارب 37کروڑ 45لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔بجٹ میں سندھ میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مجموعی طور پر 20ہزار آسامیوں پر نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔ رواں مالی سال 2015-16 میں 10ہزار اسامیاں خالی ہونے پر ان پاکستان چائنا اقتصادی راہداری کی سیکیورٹی کے لیے 2ہزار رٹائرڈ اہلکار ،6 ہزار ٹریفک پولیس کراچی اور 2ہزار اہلکاروں کی ریپڈ ریسپانس فورس سینٹر کے تقرری کی جائے گی بجٹ میں اگلے مالی سال 2016-17 میں محکمہ سندھ میں10ہزار نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی ان میں4 ہزار اسامیاں کراچی رینج کے لیے ، 1ہزار حیدرآباد کے لیے ،7 سو50 لاڑکانہ کے لیے، 600 میر پور خاص کے لیے 550 شہید بے نظیر آباد کے لئے، 600 سکھر کے لیے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کیڈرکے لیے 2 ہزار5 سو اسامیاں ہوں گی۔بجٹ میں پولیس کے لیے ٹرانسپورٹ بکتر بند گاڑیوں موبائلز کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر 5.2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں 2.5ارب روپے کی رقم ٹرانسپورٹ کے لیے 0.65ارب روپے کی مشینری کی خریداری کے لیے اور2 ارب روپے کی رقم دیگر اثاثے بشمول اسلحہ اور ایمونیشن شامل ہیں۔ بجٹ میں پولیس کو تحقیقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے GSM لوکیٹرز کی خریداری اور مرمت کے لئے20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2016-17 کے بجٹ میں امن امان کی بہتری اور پولیس اہلکاروں کی فلاح بہبود کے لیے چند اقدامات بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں محکمہ پولیس اور کے ایم سی کے تعاون سے کیمروں کی تنصیب کی مدد سے ایک یونیفائیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سرویلیئنس سسٹم قائم کیا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول