نیا این ایف سی ایوارڈ نہ دینے پر سخت احتجاج کرتا ہوں :سید مراد علی شاہ

نیا این ایف سی ایوارڈ نہ دینے پر سخت احتجاج کرتا ہوں :سید مراد علی شاہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نیا ایف سی ایوارڈ نہ دینے پر میں سخت احتجاج کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ ایوارڈ جلد دیا جائے، نیب کی وجہ سے محکمہ ذراعت کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے ، بارشوں میں کوئی حادثہ ہوا تو حراساں کرنے والے ادارے ذمہ دار ہونگے، حیسکونے تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ ان کے پاس بجلی وافر مقدار میں موجود ہے ، جس کے بعد حکومت نے نوری آباد کے پاور پلاٹ میں پیدا ہونے والی بجلی کے الیکڑک کو فروخت کر رہے ہیں۔ وہ اتوار کو سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور اقلیتی امور گیان چند اسرانی، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی وترقیاتی محمد وسیم اور سکرٹری محکمہ خزانہ سہیل راجپوت بھی موجود تھے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے جو این ایف سی ایوارڈ دیا تھا، اس کی مدت 2015ء میں ختم ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی ہے اور وہ ایوارڈ نہیں دے رہی ہے۔ میں اس پر احتجاج کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ این ایف سی ایوارڈ جلد دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال سندھ کو 112 ارب روپے کم دیئے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ رقم ہمیں دے دی جائے گی لیکن لگتا بہت مشکل ہے۔ وفاقی حکومت یا تو اپنے ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف پورا نہیں کررہی ہے یا صوبوں کی رقم کو روک کر انہیں مشکلات میں ڈالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں آئندہ سال کے لئے خدمات پر سیلز ٹیکس کا ہدف اچانک نہیں بڑھایا ہے بلکہ اس کے لئے منصوبہ بندی کی ہے۔ رواں سال سیلز ٹیکس کا ہدف 61 ارب روپے تھا، جو پورا کرلیا گیا ہے۔ آئندہ سال 78 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ 2017-18ء میں ارب کھرب کا ہدف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے کے لئے ہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرکے ٹیکس کی شرحوں کو معقول بنائیں گے تاکہ زرعی ٹیکس کی زیادہ وصولی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ٹیکس وصول کرنے والے محکموں میں سندھ ریونیو بورڈ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کارکردگی بہت اچھی ہے لیکن محکمہ ریونیو کے ٹیکسوں کا ہدف حاصل کرنے میں ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تعلیم کے شعبے پر زیادہ توجہ دی دی ہے اور اس کے ہمیں زیادہ نتائج بھی موصول ہوئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی طرف جارہے ہیں۔ اس کے لئے ہم نے ایک ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر دواؤں کے لئے زیادہ رقم رکھی ہے۔ اسپتالوں میں دوائیاں نہ ملنے کی ہمیں کم شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امن وامان کے لئے بھی بجٹ میں اضافہ کیا ہے اور پولیس کو صرف ایس این ای کے لئے 8.9 ارب روپے دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں ہماری کارکردگی بہتر اچھی ہے۔ تھرکول میں مائننگ شروع ہوگئی ہے۔ 2018ء میں کوئلے سے بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی۔ تھر میں انفراسٹرکچر پر سندھ حکومت 70 ارب روپے خرچ کرے گی۔ وفاقی حکومت نے اس میں ہماری کوئی مدد نہیں کی۔آئندہ دس سالوں میں تھر میں 20سے25ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جو پورے ملک کی ضرورت کو پورا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جامشورو نوری آباد میں 100 میگا واٹ کے پاور پلانٹس لگائے ہیں۔ پہلے حیسکو نے ہم سے بجلی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن بعد میں حیسکو نے کہا کہ اس کے پاس وافر بجلی ہے۔ اگر اس کے پاس وافر بجلی ہے تو سندھ میں لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بجلی کے الیکٹرک کو فروخت کی جائے گی۔ اس کے لئے حکومت سندھ اپنی ٹرانسمیشن لائن ڈال رہی ہے، جولائی میں ٹیسٹ سروس شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بہت سوالات کئے جاتے ہیں لیکن سندھ حکومت نے بہت اچھے کام بھی کئے ہیں۔ انہیں بھی تسلیم کیا جانا چاہئے۔ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے 100 میگاواٹ کا بجلی گھر بنایا ہے اور اپنی ٹرانسمیشن لائن ڈالی ہے۔ اگست میں یہ بجلی کراچی کو ملنا شروع ہوجائے گی۔ سندھ میں سولر ولیجز بھی قائم کئے جارہے ہیں۔ سندھ کے دیہات کو گیس اور بجلی کی فراہمی کے لئے 1.2 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لئے آئندہ سال 225 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور یہ ایک ریکارڈ ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے تمام ڈویژنز کے لئے خاطر خواہ ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ کراچی کی ترقیاتی اسکیموں پر 51 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جس میں سے 10 ارب روپے انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کے لئے رکھے گئے ہیں۔ یہ رقم یکم جولائی سے دستیاب ہوگی۔ محکمہ بلدیاتی ان منصوبوں پر عمل درآمد شروع کردے۔ انہوں نے کہا کہ K-4 کے منصوبے پر کام کرنے کیلئے FWO کو قبولیت کا لیٹر دیدیا گیا ہے اور اس سے کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 2 سال میں مکمل کیا جائے۔ سندھ حکومت نے آئندہ سال اس منصوبے کے لئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ امید ہے کہ وفاق بھی اپنے حصے کی رقم 6 ارب روپے ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اورنج لائن بس منصوبے کا وزیراعلیٰ سندھ نے سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس کے لئے 2.3 ار ب روپے بھی موجود ہیں۔ یہ ایک سال میں مکمل ہوجائے گا۔ رواں سال ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے کے اسباب بتاتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے سپریم کورٹ نے یہ پابندی عائد کردی تھی کہ کسی نئی اسکیم پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ دوسری طرف نیب نے ہمارے افسروں کا"Which hunt" شروع کردیا تھا۔ محکمہ آبپاشی کے ایک سینئر چیف انجینئر اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر کو ایک نامعلوم اور جھوٹی شکایت پر گرفتار کرلیا گیا۔ ہائیکورٹ کے جج نے فیصلہ دیا کہ نیب نے کوئی شواہد پیش نہیں کئے اور اس کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔ محکمہ آبپاشی کے افسروں کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی ہے اور وہ اپنا کام کررہے ہیں لیکن اس طرح کے اقدامات سے لوگ کام نہیں کرنا چاہتے، محکمہ آبپاشی کے ہم نے 6 ارب روپے کے بل روکے ہوئے ہیں حالانکہ یہ کام ہوچکے ہیں۔ اب سیلاب بھی آسکتے ہیں۔ اگر افسروں کے خلاف اس طرح کارروائیاں کی گئیں تو وہ کام نہیں کریں گے۔ سیلاب کی وجہ سے کوئی نقصانات ہوئے تو اس کے ذمہ دار کارروائیاں کرنے والے ادارے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز خرچ نہ ہونے کی ایک وجہ محکموں اور اداروں کی استعداد اور صلاحیت میں کمی بھی ہے۔ اس پر ہم توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے شیڈو بجٹ میں لگائے گئے یہ الزامات غلط ہیں کہ سندھ میں کوئی قرضہ معاف کیا گیا ہے۔ ایک آنہ بھی کسی کو معاف نہیں کیا گیا ہے۔ 105 ارب روپے کی گرانٹس اداروں کو دی جاتی ہے۔ بلدیاتی اداروں کو 60 ارب روپے کی گرانٹ آئندہ سال دی جائے گی۔ ایس آئی یو ٹی کو 4 ارب روپے کی گرانٹ دی جائے گی، سندھ میں پہلی بار سندھ میں کینسر کا علاج ہوگا ۔انڈس ہسپتال کی گرانٹ 30کروڑ سے بڑھاکر50کروڑ کئے ہیں اس طرح دیگر اداروں کو بھی گرانٹس دی جائے گی۔ ایم کیو ایم والے نیب تو کیا کسی سے بھی تحقیقات کرالیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بجٹ میں سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، خواتین کی ترقی، اقلیتی امور، کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کے محکموں کے بجٹ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے شہر ذوالفقار آباد پر جتنا کام ہونا چاہئے تھا، اتنا نہیں ہوا۔ آبادی بڑھ جانے کی وجہ سے نئے شہر بنانا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ محکمہ زراعت کے لئے 11 ارب روپے، محکمہ آبپاشی کے لئے 14 ارب اور کینالز کی لائننگ کے لئے 12 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال 50 ہزار نوکریاں دی جائیں گی۔ کچھ اسامیاں پہلے سے خالی تھیں اور کچھ نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کسی کا روزگار نہیں چھینتی ہے۔ پہلے جو غیر قانونی بھرتیاں ہوئی تھیں، انہیں قانون کے مطابق بنانے کے لئے کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرانشل فنانس کمیشن کی تشکیل اس وقت ہوگی، جب بلدیاتی اداروں کے میئرز اور چیئرمین منتخب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشتیوں میں پیسے لے جانے یا کسی کے گھر سے 2 ارب روپے نکلنے کی خبریں جھوٹی ہیں اور یہ سب الزامات بے بنیاد ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کراچی کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر شہروں اور قصبوں کے لئے بہت رقم رکھی گئی ہے۔ کراچی ہمارا شہر ہے۔ یہ ملک کا چہرہ ہے۔ آئندہ 20 سے 25 سال میں تھر کراچی سے زیادہ ترقی یافتہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے کوئی رقم جاری نہیں ہوتی ہے۔ ہم نے حکمت عملی تبدیل کرلی ہے، جو منصوبے اس سال مکمل ہوں گے ان کے لئے 100 فیصد رقم جاری کردی جائے گی جبکہ جاری منصوبوں کے لئے بھی 50 فیصد رقم جولائی میں جاری کی جائے گی۔ ہمارے پاس 37 ارب روپے کی اس سال کی بچت ہے۔ اگر وفاق کی حکومت کی طرف سے 112ارب روپے مل گئے تو ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ہاؤس کے بجٹ میں معمول کا اضافہ کیا گیا ہے۔ البتہ آئندہ سال ہیلی کاپٹر کی خریداری کے لئے 1.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں کیونکہ وزیراعلیٰ کا ہیلی کاپٹر 1992ء کا ہے اور وہ خطرناک ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے منصوبوں کی حد 6 کروڑ روپے سے بڑھا کر 8 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی سید آصف حیدر شاہ کے تبادلے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ ایک اچھے افسر ہیں اور اچھے افسروں سے فرق پڑتا ہے لیکن کوئی بھی افسر اس وقت اچھا کام کرتا ہے جب حکومت کی Will ہوتی ہے۔ حکومت ضرورت کے مطابق افسران کے تبادلے وتقرریاں کرتی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول