کیا مریض انسان نہیں ؟شہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور میں ایئر کنڈیشنز نہ چلنے پر اظہار برہمی

کیا مریض انسان نہیں ؟شہباز شریف کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور میں ایئر ...

لاہور(سٹی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے 4گھنٹے تک بغیر پروٹوکول قصور میں رمضان بازار،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اینٹوں کے بھٹے کے اچانک دورے کیے۔وزیراعلیٰ نے رمضان بازارمیں اشیاء خوردونوش،پھلوں، سبزیوں، دالوں، چینی ،آٹے کی قیمتوں اور معیارجبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور میں مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولتوں کاجائزہ لیاجبکہ اینٹوں کے بھٹے پر اچانک چھاپے کے دوران چائلڈ لیبر کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات کاجائزہ لیا۔رمضان بازار اورہسپتال کے دورے کے بعدقصور سے واپسی پر وزیراعلیٰ نے اپنا ہیلی کاپٹر اچانک نواحی علاقے خانوالہ کے قریبی گاؤں اڑوڑے میں کھیتوں میں اتار لیا اور نواحی گاؤں میں اینٹوں کے بھٹے پر پہنچ گئے۔وزیراعلیٰ عام کوچ میں سفر کرتے ہوئے ریلوے سٹیشن قصور کے رمضان بازار پہنچے اور صارفین سے گفتگو کرتے ہوئے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں اورمعیار کے بارے میں دریافت کیا۔صارفین نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اورکوالٹی پر اطمینان کا اظہارکیا۔وزیراعلیٰ نے رمضان بازار میں صارفین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے صوبے بھر میں رمضان بازار لگائے گئے ہیں اوران رمضان بازاروں میں عوام کو معیاری اشیاء خوردونوش سستے داموں فراہم کی جارہی ہیں ۔رمضان پیکیج کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے پوری حکومتی مشینری اور منتخب نمائندوں کو متحرک کیا گیاہے۔میں خود بھی سستی اور معیاری اشیاء ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لینے کیلئے رمضان بازاروں کے دورے کررہا ہوں ۔وزیراعلیٰ نے ریلوے سٹیشن قصور کے رمضان بازارمیں زرعی فےئر پرائس شاپ کابھی معائنہ کیا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ دالیں اوربیسن آدھا کلوکی پیکنگ میں بھی ہر صورت ملنی چاہئیں۔بازار میں خریداری کیلئے آئے بزرگوں،خواتین اورنوجوانوں نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ رمضان بازار میں اشیاء ضروریہ کے نرخ عام مارکیٹ کے مقابلے میں کم ہیں اورمعیار بھی بہتر ہے ۔وزیراعلیٰ نے بازار میں الیکٹرانک ریٹ لسٹ نصب کرنے پر انتظامیہ کو شاباش دی اورکہا کہ صارفین کی سہولت کیلئے ہر ممکن اقدام کیے جائیں کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔وزیراعلیٰ نے چینی اورسستے آٹے کے سٹالزکا جائزہ لیا اورلوگوں سے کوالٹی کے بارے دریافت کیا۔لوگوں نے وزیراعلیٰ کو بتایاکہ چینی اورآٹا کی قیمتیں بہت مناسب ہیں اورکوالٹی بھی اچھی ہے۔وزیراعلیٰ نے چینی کے سٹال پرموجود بچوں میں چینی کے دو،دو کلو کے پیکٹ تحفے میں دےئے جس پر بچوں اوران کے والدین نے مسرت کا اظہار کیا اوروزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔صارفین نے رمضان بازار میں کیے جانے والے انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا اور وزیراعلیٰ شہبازشریف زندہ باد کے نعرے لگائے۔رمضان بازار کے بعد وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال قصورکاغیر اعلانیہ اچانک دورہ کیا،وزیراعلیٰ مختلف وارڈزمیں گئے اورمریضوں سے طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا ۔مریضوں اوران کے لواحقین نے ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اوروزیراعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں علاج اچھا ہورہا ہے اورمفت ادویات بھی مل رہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے جنرل وارڈز میں ائیر کنڈیشنز بند ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے ہسپتالوں میں ائیرکنڈیشنز کی تنصیب پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری اس لئے نہیں کی کہ یہ بند پڑے رہیں۔آپ کے دفاتر میں تو ائیرکنڈیشنز چلتے رہیں لیکن ہسپتال کے وارڈ ز میں بند رہیں، کیا مریض انسان نہیں ؟۔ہسپتال کے جنرل وارڈز میں ائیرکنڈیشنز کا بند ہونا انتہائی افسوسناک ہے اور میں یہ سرمایہ کاری کسی صورت اس طرح ضائع نہیں جانے دوں گا ۔اگرٹرانسفارمرکا مسئلہ تھا تو مجھے بتاتے میں اسے حل کراتا۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے واش روم میں صفائی کی خراب صورتحال پر متعلقہ حکام کی سرزنش کی۔وزیراعلیٰ نے آپریشن تھیٹر کا بھی معائنہ کیااورآپریشن تھیٹر میں صفائی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اوربیڈز کی چادریں تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے جنرل وارڈ میں محنت کش محمد صدیق کی زیر علاج اہلیہ کو مفت علاج معالجہ اور 5لاکھ روپے مالی امدد کا اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت محمد صدیق کی بیٹی مافیہ اوردیگر بہن بھائیوں کو مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرے گی،اسی طرح وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں جگر کے مرض میں مبتلا بزرگ خاتون کے بھی مفت علاج معالجے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت جگر کے مرض میں مبتلا بزرگ خاتون کا علاج جہاں سے بھی ممکن ہوا کرائے گی۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں بعض مریضوں کے لواحقین کیلئے بھی مالی امداد کا اعلان کیااوربعض مریضوں کو لاہور کے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے دورے کے دوران ڈاکٹرز اورنرسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کااجر دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی ملتا ہے ۔دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت سے کم نہیں ۔ڈاکٹرزاور طبی عملہ مریضوں کی دیکھ بھال کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں۔وزیراعلیٰ ہسپتال کے مختلف وارڈز میں گئے ،مریضوں کی عیادت کی اوران سے علاج معالجہ کے بارے میں دریافت کیا ۔حکومت پنجاب ہسپتالوں کی حالت بہتربنانے اورعوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دکھی انسانیت کے زخم پر مرہم رکھنا بہت بڑی نیکی ہے جس اجر نہ صرف دنیابلکہ آخرت میں بھی ملتا ہے ۔وزیراعلیٰ نے وارڈز میں زیر علاج مریضوں اوران کے لواحقین سے طبی سہولتوں اورمفت ادویات کی دستیابی کے بارے پوچھا جس پر انہوں نے اطمینان کااظہار کیا ۔دورے کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں اس ہسپتال میں دوسری مرتبہ آیا ہوں ۔ہسپتال کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے تاہم ابھی اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔انشاء اللہ اس ہسپتال کاشمار جلد بہترین ہسپتالوں میں ہوگااورقصور کے لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں ملیں گی۔انہوں نے کہا کہہسپتال میں ائیر کنڈیشنرزکی بندش کا نوٹس لے لیا ہے اس مسئلے کو جلد حل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے رمضان بازار اورہسپتال کے دورے کے بعدقصور سے واپسی پر اپنا ہیلی کاپٹر اچانک کھیتوں میں اتار لیا اور نواحی گاؤں اڑوڑے میں اینٹوں کے بھٹے پر اچانک چھاپامارا۔وزیراعلیٰ کو دیکھ کر بھٹہ مزدور جمع ہوگئے اورانہوں نے وزیراعلیٰ کی جانب سے بچوں کی تعلیم کیلئے خصوصی وظائف کی فراہمی پرشکریہ اداکیا۔ وزیراعلیٰ نے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو قوم کے مستقبل کو چند کوڑیوں کے عوض گروی نہیں رکھنے دوں گا۔ بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو وسائل دے کر انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جارہاہے۔جب تک بھٹے پر کام کرنے والا آخری بچہ بھی سکول نہیں پہنچ جاتا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ ہمارا مشن ہے اور اس مشن کی تکمیل کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ انہو ں نے کہا کہ جس بھٹے پر بچوں سے مشقت لینے کی شکایت آئی تو سخت کارروائی کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے بہترین پیکیج دیا ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے جبکہ بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو سکول بھجوانے پر والدین کو 2 ہزار روپے دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم دلانا قومی مقصد ہے اور اس قومی مقصد کی تکمیل کیلئے بچوں کے والدین سمیت ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ بھٹوں پر کام کرنے والے بچو ں کی تعلیم کیلئے جتنے بھی وسائل درکار ہوں گے، دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔ سکول جانے والے بچے کو مفت یونیفارم، کتابیں، جوتے اور سٹیشنری دے رہے ہیں جبکہ دور دراز کے علاقوں کے بچوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹوں پر بچوں سے مشقت لینے کے ظالمانہ نظام کا ہر صورت خاتمہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے مزدوروں اور بچوں کے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے آپ کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے جو شاندار پیکیج دیا ہے اس سے آپ فائدہ اٹھائیں اور بچوں کو تعلیم کیلئے سکول بھجوائیں کیونکہ یہ آپ کا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ معصوم ہاتھوں میں اینٹ نہیں بلکہ کتاب ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر میں ملوث بھٹہ مالکان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی اور اس ضمن میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کمسن بچوں سے بھٹوں پر مزدوری کرانا کسی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا اور میں ذاتی طور پر چائلڈلیبر کے خاتمے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی نگرانی کر رہا ہوں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول