چولستان ‘ واٹر سپلائی اور سڑکوں کی تعمیر کے نام پر کروڑوں کا فراڈ

چولستان ‘ واٹر سپلائی اور سڑکوں کی تعمیر کے نام پر کروڑوں کا فراڈ

  



بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر) چولستان ترقیاتی ادارہ میں واٹرسپلائی اورسٹرکوں کی تعمیر کے نام پر33 کروڑ روپے کافراڈ۔ چولستان ترقیاتی ادارہ میں وزیراعلی پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ سال2005 تا2012 میں انجینئرنگ برانچ کے ایکسین اعجاز احمد، باقرگردیزی ایس ڈی اوعاشق لنگاہ، کامران (بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

اوردیگرنے اپنے چہیتے ٹھیکیداروں کوترقیاتی کاموں کی بندربانٹ کرکے ایڈوانس ادائیگیاں کردیں اورخزانہ سرکار سے33 کروڑروپے نکلوالئے جبکہ موقع پر10 سے15 فیصدکام مکمل ہوا بعدازاں مذکورہ بالامنصوبہ کونان فنڈڈ سکیمیں قراردے کر سکیمیں ختم کرنے کی منصوبہ بندکرلی انجینئرنگ برانچ کی کرپشن اوراناہلی پرمحکمہ پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ نے سٹرکوں کی تعمیرات کے کام محکمہ ہائی وے کے سپردکردیئے جبکہ واٹرسپلائی کی سکیمیں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حوالے کردیں اب انجینئرنگ برانچ محکمہ چولستان ترقیاتی ادارہ پربوجھ بن کررہ گیاہے کیونکہ اسوقت انجینئرنگ برانچ میں دوایکسین چار ایس ڈی اوز اورآٹھ سب انجینئرز کے علاوہ کلیریکل سٹاف اوردیگر عملہ سمیت50 سے زائد ملازمین خزانہ سرکار سے تنخواہیں وصول کررہے ہیں یہ بھی بتایاگیاہے کہ چولستان ترقیاتی ادارہ کاکرپٹ مافیاانجینئرنگ برانچ کے ساتھ ساتھ ایک ایس ای کی سیٹ منظورکراکرسرکل آفس بھی قائم کرانے کے چکر میں ہے عوامی وسماجی حلقوں نے کرپشن کیس نیب کے حوالے کرنے کامطالبہ کیاہے اس سلسلہ میں ایم ڈی چولستان ترقیاتی ادارہ سیدنعیم اقبال نے کہاکہ ان کی تعینات سے پہلے کی کرپشن ہوئی ہے انہوں نے متعلقہ افسران سے جواب طلبی کررکھی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر