بہاولنگر ‘ پولیس تشدد کا شکار محنت کش چل بسا ‘ ورثا کا لاش کے ہمراہ احتجاج

بہاولنگر ‘ پولیس تشدد کا شکار محنت کش چل بسا ‘ ورثا کا لاش کے ہمراہ احتجاج

  



بہاولنگر(ڈسٹرکٹ رپورٹر )تھانہ ڈونگہ بونگہ کی چوکی جنڈ والہ پر موجود کرپٹ چوکی انچارج اور دیگر اہلکاروں نے پولیس ناکہ پرایک ہزار روپے کا نذرانہ نہ دینے والے غریب محنت کش عبدالغفورپر وحشیانہ تشدد کرکے اسے موت کی وادیوں میں پہنچا دیا۔مقتول کے ورثاء نے منڈی مدرسہ میں اپنے پیارے کی نعش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اے ایس آئی مشتاق سمیت دیگر پولیس ملازمین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ ،مقامی پولیس افسران نے غریب مظاہرین پر احتجاج کی جھوٹی ایف آئی آر درجن کی گیدڑ بھببکی(بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

دینے کے بعد ورثاء کو ابتدائی ایک لاکھ روپے دے کر مزید ایک لاکھ روپے سات یوم دینے کا وعدہ کرکے مظاہرہ ختم کروا کر اے ایس آئی سمیت دیگر پولیس ملازمین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔تفصیل کے مطابق بہاولنگر کی نواحی بستی بھوجاں کا مکین غریب محنت کش عبدالغفور چند روز قبل عبدالغفور اپنے بیٹے اور بھائی کے ہمراہ منڈی مدرسہ سے جنڈوالا آرہا تھاکہ جنڈ والہ چوکی کے قریب ناکہ لگائے ہوئے اے ایس آئی محمد مشتاق سمیت دیگر کانسٹیبلان نے روک کر موٹرسائیکل کے کاغذات چیک کرنے کے بعد غنڈہ گردی کرتے ہوئے ایک ہزار روپے کی رشوت کا مطالبہ کیا ۔غریب محنت کش کے پاس مطلوبہ رقم نہ ہونے پر کرپٹ پولیس کے اہلکاران طیش میں آ گئے اور غریب محنت کش پر وحشیانہ تشدد کرکے عبدالغفور کو آدھ مویا کردیا اس دوران علاقہ کے مکینوں نے بیہوش عبدالغفور کو ڈی ایچ کیو ہسپتال بہاولنگرپہنچا دیا۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر کے ڈاکٹرز نے مریض کو انتہائی تشویش ناک حالت کے باعث بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کروا دیا۔پولیس کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے غریب محنت کش کے بھائی محمد عامر سمیت دیگر اہل خانہ نے لہولہان اور بیہوش عبدالغفور کو ایمبولینس سمیت ڈی پی او دفتر کے احاطہ میں لاکر احتجاجی مظاہرہ کیا لیکن پولیس افسران نے اپنے ماتحت اے ایس آئی محمد مشتاق کے خلاف درخواست وصول کرنے سے ہی انکار کردیا ۔محمد عامر نے میڈیا کو بتایا کہ ڈی پی او کی عدم موجودگی کے باعث دفتر میں موجود ایس پی انوسٹی گیشن مسعود رضا نے متاثرین سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کردیا۔بعدازاں نواحی بستی بھوجاں کے سینکڑوں مکینوں نے منڈی مدرسہ روڈ پر بیہوش عبدالغفور کو سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہر ہ شروع کیا تو تین گھنٹے تک ٹریفک نظام جام رہنے کے بعد پولیس نے غریب مظاہرین پر لاٹھی چارج کرکے انہیں منتشر کروا دیا۔گزشتہ روز پولیس تشدد کا شکار عبدالغفور بی وی ایچ ہسپتال میں تقریبا 8یوم قومہ کی حالت میں رہنے کے بعد اپنے حقیقی خدا سے جاملا۔مقتول کے ورثاء نے نعش کو بی وی ایچ سے منڈی مدرسہ میں لا کر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے قتل میں ملوث پولیس حکام کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تاہم پولیس افسران نے مداخلت کرکے پولیس وردی کا رعب اور ایک لاکھ روپے دے کر مزید ایک لاکھ روپے سات یوم دینے کا وعدہ کرکے قتل کے مقدمہ کا معاملہ گول کردیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر