بچوں سے جبری مشقت،چائلڈ لیبر قانون مذاق بن کر رہ گیا

بچوں سے جبری مشقت،چائلڈ لیبر قانون مذاق بن کر رہ گیا

ملتان،باگڑسرگانہ، دھنوٹ،لودھراں،خان پور، صا د ق آباد،سیت پور،بہاولنگر(سٹی رپورٹر، نمائندگا ن)چائلڈ لیبر کے خاتمہ کا عالمی دن،قانون پر عملدرآمد ندارد،جنوبی پنجاب میں بچوں سے جبری مشقت لے کر قانون کا دھڑلے سے مذاق اڑایا جانے لگا۔آگہی کیلئے تقریبات صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہوکر رہ گئیں،اس سلسلے میں ملتان سے سٹی رپورٹر کے مطابق سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام تقریبات منعقد کی گئی جس مین سماجی،سیاسی رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت۔اس سلسلے میں جسٹس اینڈ بیلنس کمیشن کے زیر اہتمام اینٹوں کے بھٹہ میں تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں معروف سماجی رہما نعیم ہارون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چائلد لیبر کا خاتمہ کرکے معاشرے کو بچہ مزدوری سے باک کرسکتے ہیں۔باگڑسرگانہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق چائلڈلیبر قانون توبن گیا لیکن اس پرعمل درآمدنہ ہو سکا آج بھی سینکڑوں بچے ہوٹلوں ورکشاپوں میں کام کرنے پرمجبور ہیں ،حکمرانوں کوچاہیے کہ اس کی سخت سزا تجویز کریں تاکہ ان بچوں کو اس عمر میں محنت مزدوری نہ کرنی پڑے ہمارے معاشرے کا سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ لوگ قانون کی پاسداری نہیں کرتے اگر بچوں سے جبری مشقت کرانے والوں کوسزائیں دی جائیں توہمارے ملک کاہر بچہ سکول جانے لگے لیکن آج بھی کانوں میں یہ آوازئیں گونج رہی ہیں چھوٹے چابی لا، میز صاف کر،چھوٹے چائے لا،ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔دیہی علاقوں میں آج بھی بچے مشقت پرمجبور ہیں اگر اس کافوری سدباب نہ کیا گیا تودیہی علاقوں کے غریب بچے تعلیم کے زیورسے محروم رہ جائیں گے اور اس قانون کافائدہ ان غریبوں کوہر گز نہیں پہنچ سکے گا۔دھنوٹ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ملک میں لاکھوں بچے غربت اورمہنگائی کی وجہ سے جبری مشقت پر مجبور ہیں ۔خدمت کارڈکا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا بھٹہ مزدوروں نے اپنے بچے سکولوں میں داخل کرا دیئے مگرجن بچوں کو اعزازیہ ابھی تک نہیں ملا اندیشہ ہے کہ وہ بچے سکول چھوڑ کرواپس مزدوری پر نہ چلے جائیں ان خیالات کا اظہار اے ڈی انجم صدر الرّحیم دویلپمنٹ آرگنائزیشن نے بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ،لیبر ڈیپارٹمنٹ ،سماجی تنظیمیں اور سول سوسائٹی بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے اور ان کے بہتر مستقبل کیلئے موّثر کردار ادا کریں۔لودھراں سے نمائندہ پاکستان ،نامہ نگارکے مطابق لودہراں(نامہ نگار)لودھراں میں زرعی شعبہ سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہمارا مشن ہے اور آئندہ چند برسوں میں بچوں کی صحت اور تعلیمی حالت کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے ان خیالات کا اظہار ملک شہباز اعوان پروجیکٹ منیجرنے لودہراں پریس کلب میں " کپاس کی کاشت کے علاقوں میں بچوں کی زندگی کو بہتر بنانا " کے عنوان سے پبلک ویلفیئر آرگنائزیشن کے حالیہ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مظفر اقبال چودھری (ایجوکیشن آفیسر)نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے پی ڈبلیو او 9 سال سے زائد عمر کے بچوں اور بچیوں کے لیے بعد دوپہر سکولوں کا قیام عمل میں لائے گی جو سرکاری سکولوں کی عمارتوں میں کام کریں گے اس منصوبے کے تحت 100 ٹیچرز بھرتی کیے جائیں گے جو تقریباََ 4000 ناخواندہ بچوں اور بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے ۔مرزا سلیم اختر سیکرٹری انجمن تاجران نے کہا کہ ورکشاپوں، ہوٹلوں اوردیگر مقامات پر چائلڈ لیبر کرنے والے بچوں کو سکول میں داخل کرانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم اس سلسلہ میں پی ڈبلیو او سے ہر طرح کا تعاون کریں گے ۔خان پور سے تحصیل رپورٹر کے مطابق بریج ویلفئیر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام چائلڈ لیبر خاتمہ کے عالمی دن کے سلسلہ میں انکے مقامی دفتر میں تقریب کا اہتما م کیا گیا جس میں عہدیداران سمیت دیگر سماجی تنظیموں کے عہدیداران اور شہریوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بریج ویلفئیر آرگنائزیشن عبد اللہ قریشی نے کہا کہ اگر آج یہ ہونہار بچے تعلیم حاصل کریں گے تو یہی بچے آئندہ پاکستان کا مستقبل ضرور ثابت ہو نگے اور معاشرتی برائیوں سے بھی ان ہو نہاروں کو چھٹکارا حا صل ہو سکے گا۔تقریب سے ممتاز سماجی شخصت محمد زبیر سبحانی ،فیاض انور،ماسٹر اسلام ،ما سٹر سعید الدین،غزالہ شبنم چوہدری ،نسیم فاطمہ ودیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔صادق آباد سے تحصیل رپورٹر،نمائندہ پاکستان کے مطابق چیئرمین پاکستان لائف کیئر فاؤنڈیشن میاں شریف راشد نے کہا ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت پر جس قدر زیادہ توجہ دی جائے ، قوموں کی ترقی کے امکانات اسی قدر زیادہ روشن ہوتے ہیں لہذا بچوں سے محنت و مشقت کے خاتمے اوران کی تعلیم و تربیت پرتوجہ دینا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن منانے کا مقصد محنت کش بچوں کومزدوری سے نجات دلاکر زیادہ سے زیادہ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔سیت پور سے نامہ نگار کےء مطابق چائلڈ لیبر کے عالمی دن کے موقع پر سیت پور سمیت تحصیل علی پور میں جگہ جگہ چائلڈ لیبر جاری ہے۔ غربت کے باعث لوگوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے چھوٹے کاموں پر بچوں کو رکھ لیا ہے۔ جون کے اس مہینے میں جہاں پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت ہے۔ معصوم بچوں سے ہوٹلوں۔ ورکشاپوں۔ جست پیٹیوں کی دکانوں۔ حجاموں کی دکانوں اور دیگر مقامات کے علاوہ تمام بڑے گھروں ۔ وڈیروں کے ڈیروں اور افسران کے گھروں میں چائلڈ لیبر جاری ہے۔حکومت چائلڈ لیبر کا واقعی خاتمہ چاہتی ہے اسے چاہیے کہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کرے۔ اس موقع پر باسط نوا زخان۔ میاں طارق احسان۔ عبد اللطیف سیال۔ رانا محمد طارق فریدی۔ جام باقر حسین چنہ۔ حاجی اصغر خان عمرانی۔ میاں طاہر احسان۔ میاں محمود طارق۔ عابد نواز خان۔ قاسم نواز خان۔ عدنان نواز خان۔ اور دیگر موجود تھے۔بہاولنگر سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کئے مطابق ڈی او سی عبدالجبار گجر نے کہا ہے کہ حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔بھٹوں پر سکول قائم کئے جا رہے ہیں اور بھٹہ مزدور کے بچوں کو سکول جانے کا وظیفہ خدمت کارڈ کے زریعے جاری کر دیا گیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گودآرگنائزیشن اور پنجا ب لیبر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام چائلڈ لیبر کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر طارق ملک ڈسٹرکٹ منیجر لیبر،نزیر غازی ایگزیکٹو ڈائریکٹر گود ، مہرین تیمور پراجیکٹ منیجر گود،ایوب عالم،سید افتخار حسین ممبران ڈسٹرکٹ ویجیلینس کمیٹی بھی موجود تھے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد پاکستان میں دن بدن بڑھتے ہوئے مسئلے ،،بچہ مزدوری،،کے خاتمے کی طرف ارباب اختیار اور مخیر حضرات کی توجہ مبذول کرانا ہے۔اس تقریب میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ بچوں نے بھی شرکت کی ۔اور اس بچہ مزدوری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے کی یقین دھانی کروائی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر