پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مسیحیوں، مسیحی اداروں کی خدمات گرانقدر ہیں: یوسف رضا گیلانی

پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مسیحیوں، مسیحی اداروں کی خدمات گرانقدر ہیں: یوسف ...

ملتان (سٹی رپورٹر)سا بق وزیر اعظم پاکستان مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خصوصی طور پر تعلیم کے میدان میں مسیحیوں اور مسیحی اداروں کی خدمات بے شمار اور گراں قدر ہیں ان اداروں سے تعلیم یافتہ ناصرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی مختلف شعبوں میں اعلی عہدوں پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ہمار ے یہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم مسیحیوں کی خدمات کو سراہتے نہیں ہیں حالانکہ یہ اپنی پوری محنت اور لگن کے ساتھ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں اور ہنر کے ساتھ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز جسٹس اینڈ پیس کمیشن کے زیر اہتمام اپنی استاد سسٹر بیناڈکٹہ کو زبردست خراج عقیدت کرتے ہوئے کیا پیش کیا۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس بات پر خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں نے مسیحی اداروں اور مسیحی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جنہو ں نے نا صرف مجھے اچھی نصابی تعلیم دی بلکہ میری بہترین اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار اد ا کیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بشپ بینی ماریو ٹراوس نے کہا کہ دونوں سسٹر صاحبان نے تعلیم کے ذریعے سے اس ملک کی جس طرح خدمت کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم ان سسٹر صاحبان کی زندگیوں کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے ان کی طرح اپنا نام پیدا کرتے ہوئے اس ملک کو عظیم تر بنائیں روزنامہ پاکستان ملتا ن کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر شوکت اشفاق نے کہا کہ استاد کا تعلق چاہے کسی مذہب یا طبقہ سے ہو۔استاد ہمیشہ قابل احترام شخصیت ہے اور ان دونوں ہستیوں نے ایک طویل عرصے تک ملتان کے لوگ کی خدمت کی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔کیونکہ انہوں نے بے شمار لوگوں کی تعلیم و تربیت کر کے ان کو معاشرے کا کارآمد رکن بنایا ہے۔علامہ ساجد عباس گردیزی نے کہا کہ استاد کا مقام بہت ہی اعلی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں استاد کو وہ عزت نہیں دی جاتی۔استاد کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہذاہمیں استاد کو ا س کا جائز مقام دینا ہو گا۔ڈاکٹر صلاح الدین نے کہا سسٹر بیناڈکٹہ اورسسٹر روشن مریم کی تعلیم کے شعبے میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے کیونکہ ایسی ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا المیہ رہا ہے کہ ہم استاد کی خدمات کو سراہتے نہیں ہیں اس لیے ہمارے معاشرے میں تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہمیں دوسروں ممالک سے سیکھنے چاہے جہاں پر استاد کی عزت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ نوید عامر جیوا نے کہا کہ یہ ہماری مسیحی برداری کے لیے فخر کی بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی جیسی قدآور شخصیات نے مسیحی استاتذہ سے تعلیم حاصل کی۔اس سے یہ بات بھی واضح عیاں ہوتی ہے کہ مسیحی لوگ بلا کسی تفریق اور لالچ کے اس ملک کی خدمت کر رہی ہے کیونکہ پاکستان سب کاہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر فرد یہاں پر اہم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جس طرح گیلانی صاحب آج یہاں پر تشریف لائیں ہیں اس پتہ چلاتا ہے کہ ان کے دل میں استاد کی کتنی عزت اور احترام ہے۔ ایگز یکٹو سیکرٹری جے پی سی ہائی سینٹ پیٹرنے کہاکہ ہماری مسیحی برداری کی قیام پاکستان اور استحکام پاکستان میں خدمات کو کسی صورت بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک مسیحیوں کی خدمات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ جبکہ مسیحی اپنی پوری جانفشانی اور ایمانداری سے وطنِ عزیز کی ترقی و تعمیر کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے پھر چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا عدلیہ ہو یا فوج ، مسیحیوں نے پاک وطن سے اپنی محبت کا بھر پور اظہار کیا ہے۔ دیگر مقررین ٖفادر عاطف، ایوب ساجد، عامر صدیقی ، سٹر سمیرا، سسٹر مہرین، عمانویل عاصی، یاسمین خاکوانی ، سہیل جاوید، نعیم ہارون ، حفظیباہ افتخار و دیگر نے خطاب کیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر