اسلام آباد میں نیب افسران کے نام پر شہریوں سے گاڑیاں ہتھیانے کا انکشاف

اسلام آباد میں نیب افسران کے نام پر شہریوں سے گاڑیاں ہتھیانے کا انکشاف

  



اسلام آباد (وحید ڈوگر سے)وفاقی دارلحکومت میں نیب کے افسران کے نام پر شہریوں سے گاڑیاں ہتھیانے کا انکشاف ہوا ہیتھانہ سبزی منڈی پولیس کو عزیز خان نے درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی گاڑی LED2264کلٹس جو کہ میراعمران نامی دوست لے کر گیا بعدازں دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ عمران فاروق اورعبدالرحیم نامی شخص جو کہ خود کو مبینہ طور پر قومی احتساب بیورو (نیب )کا ملازم ظاہر کرتا ہے نے مل کر میری گاڑی غائب کردی ہے اور واپس کرنے سے انکاری ہے بعدازں ٹریکر کی مدد سے گاڑی کو ٹریس کیا گیا جو کہ ائرپورٹ کے قریب ایک کار پارکنگ میں کھڑی پائی گئی پارکنگ کے گارڈ کا کہنا تھا کہ عبدالرحیم نامی شخص گاڑی کھڑی کر کے گیا ہے اس کو بلا لے اور گاڑی لے جائے بعدازں پارکنگ سے گاڑی نکالنے کے بعد عبدالرحیم نے گاڑی غائب کر دی اور ٹریکر بھی اتار دیا جس کا اعتراف بھی اس نے خود کر لیا بعدازں شہری کی درخواست پر تھانہ سبزی منڈی پولیس نے عدالت کے حکم پر مقدمہ نمبر 334/15 درج کر لیا باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے مقدمہ تو درج کر لیا گیا لیکن چند نیب اور پولیس کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے کئی ماہ تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا بعدازں عدالت سے اشتہاری قرار دینے کے بعد ملزمان پر دباو بڑھ گیا اور ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی اس حوالے سے ذرائع کا مذید کہنا تھا کہ نیب سے باقاعدہ پولیس افسران کو فون کالز آتی تھی کہ مقدمہ درج نہ کیا جائے یہی وجہ ہے کہ مقدمہ عدالت کے حکم پر درج کیا گیا اور پولیس کی جانب سے کئی بار درخواست گزار پر دباو ڈالا گیا اور پولیس کی جانب سے کئی بار درخواست گزار کو کہا گیا کہ گاڑی کا معاملہ ہے نیب والوں سے ٹکر لینے کی کیا ضرورت ہے اس حوالے سے روزنامہ پاکستان کے رابطے پر مدعی مقدمہ نے کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے ذلیل خوار ہونے کے بعد عدالت کے حکم پر مقدمہ درج ہوا اور مسلسل ملزمان کی جانب سے مجھے نیب کے نام پر ہراساں کیا جاتا رہا مدعی مقدمہ نے الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کی جانب سے باقاعدہ طور پر نیب کے نام پرسنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی رہی کیا یہ بات درست ہے کہ پولیس کی جانب سے بھی آپ کو نیب سے ٹکر لینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی جاتی رہی ؟جس پر مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی کے پیشی کے وقت ریڈر کو فون کال موصول ہوئی جس کے بعد ریڈ جس کا نام معلوم نہیں کا کہنا تھا نیب سے لڑائی لینے کی کیا ضرورت ہے بعدازں مقدمے کے تفتیشی اے ایس آئی اختر اقبال کو تبدیل کردیا گیا اس وقت مقدمے کے تفتیشی اے ایس آئی قمر اعجاز نے رابطیپر بتایا کہ نیب کے اشتہاری ملازم کو گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ اس نیایڈیشنل سیشن جج رخشندہ شاہین کی عدالت سے ضمانت کروا لی ہے ایک سوال کے جواب میں تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم کے نیب کا ملازم ہونے یا نہ ہونے کے حوالے کچھ نہیں کہا جا سکتا اس حوالے سے ملزم کے نیب کا ملازم ہونے اور نیب کی مقدمے میں مداخلت کے حوالے سے ترجمان نیب نوازش سے کئی بار فون کالز اور میسج کئے گئے لیکن رابطہ نہ ہوسکا اس حوالے سے نیب کا ذمہ دار افسر موقف دینا چاہئے روزنامہ پاکستان کے صفحات حا ضرہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر