نائٹ کلب پر حملہ، لوگ ہر طرف بھاگتے چیختے نظر آئے: عینی شاہدین

نائٹ کلب پر حملہ، لوگ ہر طرف بھاگتے چیختے نظر آئے: عینی شاہدین
نائٹ کلب پر حملہ، لوگ ہر طرف بھاگتے چیختے نظر آئے: عینی شاہدین

  



اورلینڈو (ویب ڈیسک) امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں حملہ آور نے ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کر کے کم از کم 50 افراد کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے سربراہ جان مینا نے کہا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے شروع ہوا۔ پلس اورلینڈو کے سب سے بڑے نائٹ کلبوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اس رات لاطینوز کے موضوع پر مبنی تقریب ہو رہی تھی کہ اسی دوران حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔ تھوڑی ہی دیر بعد کلب کے فیس بک پیج پر میسج آیا: ’ہر کوئی پلس سے نکل جائے اور دوڑتا رہے۔‘ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کے جسم سے بم نما چیز بندھی ہوئی تھی۔ اس نے کلب میں کام کرنے والے پولیس اہلکار کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کہ ایسا کلب کے اندر ہوا یا باہر۔ حملہ آور نے کلب میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا جس کے بعد پانج بجے پولیس نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اسی دوران ایک دھماکہ بھی ہوا، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حملہ آور کی توجہ بٹانا تھا۔ پولیس نے حملہ آور کو ہلاک کر دیا لیکن اس سے پہلے 50 سے زائد لوگ مارے جا چکے تھے۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ کم از کم 53 زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ کلب میں حملے کے وقت 320 افراد موجود تھے۔ ان میں سے بعض نے اپنے تاثرات بیان کئے۔ کرسٹوفر ہینسن نے بتایا: کہ ’ہر طرف لوگ بھاگتے اور چیختے نظر آ رہے تھے، پارکنگ لاٹ میں لاشیں پڑی تھی جن پر نشان لگائے جا رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ کوئی ڈرائونی فلم ہے۔‘ جان ایلمو نے کہا کہ ایک آدمی اسلحہ تھامے کمرے میں داخل ہوا۔ ’میں نے 20، 40، 50 فائر سنے۔ موسیقی رک گئی۔‘

مزید : بین الاقوامی