پاکستان کا افغانستان سے طور خم بارڈر پر فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان کا افغانستان سے طور خم بارڈر پر فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ
 پاکستان کا افغانستان سے طور خم بارڈر پر فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ

  



اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان نے طور خم بارڈر پر افغانستان کی جانب سے فائرنگ پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام سکیورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان وزیراعظم ہاﺅس کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ قابل مذمت عمل ہے۔ جس پر ہم افغان حکومت سے فوری اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغان بارڈر پر تعینات فوجیوں کی حفاظت کے حوالے سے تحفظات ہیں، جبکہ اس طرح کے واقعات سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام سیکیورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاک افغان سرحد پر آزادانہ آمدورفت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا افغان سرحد طور خم پر افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام سیکیورٹی کے لیے انہتائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان فورسز کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جائے گا، پاک افغان سرحد پر آزادانہ آمدورفت کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقے طورخم بارڈر کے کراسنگ پوائنٹ پر افغان فورسز نے پاکستانی حدود میں بلااشتعال فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار زخمی ہوگیا جب کہ پاک فورسز نے فائرنگ کا مؤثر جواب دیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی نقل وحرکت پرنظر رکھنے کے لیے طورخم کراسنگ پوائنٹ پرگیٹ تعمیر کیا جارہا ہے جس کا مقصد غیر قانونی نقل وحرکت پرنظررکھنا ہے کیوں کہ حالیہ دنوں میں بیشتر دہشت گرد اسی راستے کو استعمال کرتے پائے گئے ہیں۔واضح رہے پاک افغان سرحد پر طور خم بارڈر پر سب سے زیادہ نقل وحرکت ہوتی ہے۔

مزید : اسلام آباد