آرمی چیف نے میرے مشورے پر جی ایچ کیو میں میٹنگ بلائی: سرتاج عزیز

آرمی چیف نے میرے مشورے پر جی ایچ کیو میں میٹنگ بلائی: سرتاج عزیز
آرمی چیف نے میرے مشورے پر جی ایچ کیو میں میٹنگ بلائی: سرتاج عزیز

  



لاہور (ویب ڈیسک) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے میرے مشورے پر ہی جی ایچ کیو میں میٹنگ بلائی ہے، ہم بھارت سے محاذ آرائی نہیں بات چیت چاہتے ہیں مگر بال اب بھارت کے کورٹ میں ہے وہ مذاکرات کرے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

مقامی اخبار ایکسپریس کے مطابق انہوں نے کہا (ن) لیگ کے دور میں بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہوئے تو خراب بھی نہیں ہوئے، مسئلہ کشمیر کے بغیر مذاکرات مکمل نہیں ہوسکتے ۔ افغانستان طالبان سے مذاکرات کیلئے متحد نہیں، افغانستان میں امریکہ کو لڑائی سے کچھ نہیں ملے گاوہاں مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوں گے ۔ 4 ممالک کا گروپ طالبان کے ساتھ رابطوں میں ہے۔ خارجہ پالیسی میں سکیورٹی اداروں کا بہت اہم رول ہے اور ان کے ساتھ مکمل مشاورت کرتے ہیں ، امریکی ہمیں ڈرون حملے کے اصل مقاصد سے صحیح طورپر بریف نہیں کر سکے۔ طالبان کے پاس اب اتنا اختیار اور طاقت تو نہیں کہ وہ پورے افغانستان پر قبضہ کر لیں لیکن طالبان امریکہ اور اتحادی فوجوں کے ساتھ مزید 10 سے 15 سال لڑسکتے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے مشترکہ خطاب کے موقع پر میں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مشورہ دیا کہ وزیراعظم نواز شریف ملک میں نہیں ہیں لیکن ڈرون حملے کی وجہ بہت سے نئے ایشوز ہیں ان پر ہمیں ملکر بات کرنی چاہیے جس کے بعدآرمی چیف نے جی ایچ کیو میں میٹنگ بلائی، میں نے مذکورہ میٹنگ کیلئے حکومتی وزراءکو بھی اطلاع دی ملکی معاملات پر حکومت اور فوج میں مکمل اعتماد ہے۔ پاکستان کو نیو کلیئر سپلائی گروپ میں شمولیت کیلئے تمام ممالک سے رابطہ کیا ہے چین سمیت کئی ممالک نے حامی بھری ہے، کوریا میں ہونیوالے اجلاس کے بعد مزید کئی ممالک ہمارے مﺅقف کی حمایت کریں گے ۔ ہم نے یہ مﺅقف اختیار کیا ہے کہ این پی ٹی کیلئے الگ معیار رکھاجائے، بھارت کو یکطرفہ طورپر این ایس جی میں شامل کرنے سے خطہ میں عدم توازن پیدا ہو جائیگا۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں توازن بگڑنے نہیں دیگا۔

مزید : قومی