خودمختاری اور سالمیت کے معاملات پر امریکہ کیساتھ ہرگز تعاون نہیں کر سکتے: اعزاز چوہدری

خودمختاری اور سالمیت کے معاملات پر امریکہ کیساتھ ہرگز تعاون نہیں کر سکتے: ...
خودمختاری اور سالمیت کے معاملات پر امریکہ کیساتھ ہرگز تعاون نہیں کر سکتے: اعزاز چوہدری

  


اسلام آبا (مانیٹرنگ ڈیسک) سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ کچھ معاملات پر ہم امریکہ کیساتھ ہرگز تعاون نہیں کر سکتے جن میں ہماری خودمختاری اور سالمیت ہے۔ پاک امریکہ کشیدگی کی ایک وجہ امریکہ کا بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر پسند کرنا بھی ہے۔ ملا منصور کا پاسپورٹ جلنے سے بچ جانے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید اور نزہت صادق کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امورکا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں مشیر خار جہ سرتاج عزیز، اعزاز چودھری، سیکرٹری دفاع اور عالم خٹک و دیگر شریک ہوئے۔ اجلاس میں امریکی ڈ رون حملے اور ایف 16 طیاروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مطابق اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں نشیب و فرازپاکستانی عوام اور قیادت کیلئے نئی بات نہیں ہے تاہم پاک چین کی بڑھتی دوستی اور سی پیک منصوبہ پاک امریکی کشیدگی کی ایک وجہ بنا ہے جبکہ امریکہ کا بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر پسند کرنا بھی کشیدگی کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نمائندوں کیساتھ ملاقات میں آگاہ کیا کہ امریکہ نے ڈرون حملہ کرنے میں جلد بازی کی اور اب اس سے یہ بھی پوچھ لیا ہے کہ امن عمل بات چیت کے آگے بڑھانا ہے یا جنگ کرنی ہے۔ امریکہ نے جہاں 16 سال جنگ کو دئیے وہاں 6 ماہ افغان امن عمل کو دیتا۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

سیکرٹری خارجہ نے ملا منصور اختر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملا منصو ر کا پاسپورٹ جلنے سے بچ جانے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ یہ اصلی بھی ہے یا نہیں اور اگر اصلی ہے تو کیا یہ ملا منصور کا ہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کے مطابق ملا منصور ایران سے آ رہے تھے جبکہ تفتان کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں ہمارے 5 ہزار جوان شہید ہوئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہاری خارجہ پالیسی اور بیانیہ درست ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا صوبہ قندھار اس منصوبے سے سب سے پہلے فائدہ اٹھائے گا۔

مزید : قومی /اہم خبریں