امریکہ سے  ایف  16طیاروں کی ڈیل کا باب بند ہوچکا ‘اردن سے حصول کا اعلان ، بھارتی پراپیگنڈے کا جواب دینے کی حکمت عملی بنالی: پاکستان

امریکہ سے  ایف  16طیاروں کی ڈیل کا باب بند ہوچکا ‘اردن سے حصول کا اعلان ، ...
امریکہ سے  ایف  16طیاروں کی ڈیل کا باب بند ہوچکا ‘اردن سے حصول کا اعلان ، بھارتی پراپیگنڈے کا جواب دینے کی حکمت عملی بنالی: پاکستان

  



اسلام آباد(اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع اور خارجہ امور کے مشترکہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ سے ایف 16طیاروں کی ڈیل کا باب بند ہوچکا ہے‘یہ تفصیل نہیں بتا سکتے کہ امریکہ ایف 16طیاروں کے بدلے کیا چاہ رہا تھا لیکن اب یہ طیارے تھرڈ پارٹی کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے،  فائٹر جیٹ خریدنے کیلئےاسلامی ملک  اردن کے ساتھ ساتھ فرانس سے بھی رابطہ کیا جائے گا،پاکستان دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میرٹ پر بڑھانے کا خواہاں ہے لیکن ملکی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بھارت نے اپنی خدمات چین اور اسلامی ممالک کے خلاف امریکہ کو پیش کی ہیں، پاکستان بہت جلد واشنگٹن کے اندر ایک لابیسٹ کی خدمات حاصل کریگا تا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور انڈین پروپیگنڈے کا موثر جواب دے سکے، امریکہ سے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد واضح کرے کہ کیا وہ افغانستان میں امن کے حصول کےلئے مذاکرات چاہتا ہے یا جنگ، پاسپورٹ تفصیلات کے مطابق ملامنصور ایران سے سفر کر رہا تھا، پاکستان اس حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ ڈرون حملے کے بعد تباہ شاہ کار کے اندر یہ کس طرح جلنے سے محفوظ رہا، دہشتگردوں کے افغان پناہ گزین کیمپوں میں محفوظ ٹھکانے ہیں۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت مشاہد حسین سید اور نزہت صادق نے کی ۔ وفاقی سیکرٹری وزارت دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) عالم خٹک نے کہا ہے کہ امریکہ سے ایف 16طیاروں کی ڈیل کا باب بند ہوچکا ہے‘یہ تفصیل نہیں بتا سکتے کہ امریکہ ایف 16طیاروں کے بدلے کیا چاہ رہا تھا لیکن اب یہ طیارے تھرڈ پارٹی کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔ سیکرٹری دفاع نے کمیٹی کو بتا یا کہ فائٹر جیٹ خریدنے کے لئے اردن کے ساتھ ساتھ روس اور فرانس سے بھی رابطہ کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ‘سٹریٹجک مسائل کا حل بھی سٹریٹجک طریقے سے ہی نکا لا جاسکتا ہے ۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے پارلیمنٹرین سے کہا کہ وہ تجاویز دیں تا کہ خارجہ پالیسی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ مشاہد حسین سید نے وزارت خارجہ ‘دفاعی کمیٹی ‘دفاعی کونسل کو کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کریں تا کہ خارجہ پالیسی کو حتمی شکل دی جاسکے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاکستان کی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ ہے تا کہ خطے میں توازن قائم کیا جاسکے ۔کمیٹی کے ممبران نے سوال کیا کہ امریکہ کا جھکاﺅ امریکہ کی طرف کیوں ہیں جس پر سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ قوتیں سی پیک کے خلاف ہونے کی وجہ سے اکٹھی ہورہیں ہیں ۔انہوں نے اس بات کو رد کیا کہ دنیا میں پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میرٹ پر بڑھانے کا خواہاں ہے لیکن ملکی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین سالوں میں پاکستان کے اندر سی پیک کا منصوبہ ایک بڑی کامیابی ہے ‘پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا ممبر بنا ‘پاکستان کے سینٹرل ایشین‘ یورپی اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور اس وقت اسلام کے خلاف کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس نے اپنی خدمات چین اور اسلامی ممالک کے خلاف امریکہ کو پیش کی ہیں ۔سرتاج عزیز نے سرحدی انتظام کو مزید مضبوط کر نے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین کی جلد واپسی ممکن بنائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت جلد واشنگٹن کے اندر ایک لابیسٹ کی خدمات حاصل کریگا تا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور انڈین پروپیگنڈے کا موثر جواب دے سکے ۔مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے خارجہ سیکرٹری اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی صحیح سمت اور بہترین قومی مفاد میں ہے۔ امریکہ پاکستان کی سیکیورٹی کی تشویش سے آگاہ ہے اور ڈرون حملوں کا معاملہ حکومت کے ایجنڈے میں ترجیحی طور پر شامل ہے۔ پاکستان نے امریکہ سے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد واضح کرے کہ کیا وہ افغانستان میں امن کے حصول کےلئے مذاکرات چاہتا ہے یا جنگ۔ خارجہ سیکرٹری اعزاز احمد چوہد ری نے بتایا کہ امریکی نمائندوں سے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت جلدبازی میں اقدام تھا۔ اجلاس میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کوایف 16لڑاکا طیاروں کی فروخت پر مجوزہ سبسڈی ختم کرنے اور بلوچستان میں 22 مئی کو ڈرون حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔

خارجہ سیکرٹری نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں 16سال جنگ میں گزارے اور یہ بہتر ہوتا اگر 6 ماہ امن کو بھی موقع دیا جاتا۔ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاسپورٹ تفصیلات کے مطابق ملامنصور ایران سے سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی شہر تفتان کا ریکارڈ بھی دستیاب ہے تاہم پاکستان ملامنصور کے پاسپورٹ کی صداقت کی تصدیق کر رہا ہے اور اس حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ ڈرون حملے کے بعد تباہ شاہ کار کے اندر یہ کس طرح جلنے سے محفوظ رہا۔ خارجہ سیکرٹری نے کہا کہ دہشتگردوں کے افغان پناہ گزین کیمپوں میں محفوظ ٹھکانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تیس سال تک افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی۔ انہوں نے افغانستان کے نئے دوستوں بھارت اور ایران سے کہا کہ وہ اس بوجھ کو بانٹنے کے لئے آگے آئیں۔ پاکستان کو ایف 16طیاروں کی فروخت پر رعایت ختم کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس نے اس سلسلے میں بڑا کردار ادا کیا۔

مزید : قومی /اہم خبریں